MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پہنچا ہے جب سے عشق کا مجھ کو سلام خاص

غزل پہنچا ہے جب سے عشق کا مجھ کو سلام خاص دل کے نگیں پہ تب سے کھدایا ہے نام خاص پھولے نہیں سماتے ہو جامہ میں مثل گل پہنچا ہے تم کو آج کسو کا پیام خاص مے خانہ میں خودی کو نہیں دخل شیخ جی بے خودی ہوا ہے جن نے پیا ہے […]

پہنچا ہے جب سے عشق کا مجھ کو سلام خاص Read More »

کرتا ہوں اب کے بار میں توبہ سے توبہ یار

غزل کرتا ہوں اب کے بار میں توبہ سے توبہ یار کس واسطے کہ ٹوٹی ہے توبہ ہزار بار جل ہی گیا فراق تو آتش سے ہجر کی آنکھوں میں مری رہ نہ سکا یارو انتظار برباد میری خاک ہوئی واں نہ لے گئی دل میں مرے رہے گا صبا سے یہی غبار ساغر تجھے

کرتا ہوں اب کے بار میں توبہ سے توبہ یار Read More »

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا

غزل زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا آفت زدہ ہوں یار ادھر کا نہ ادھر کا کس طور دل اس خنجر مژگاں کی سپر ہو مقدور جہاں ہو نہ قضا کا نہ قدر کا گلزار میں دنیا کے ہوں جو نخل بھچنپا خواہش نہ ثمر کی نہ میاں خوف قہر

زاہد کہوں کیا تجھ سے کہ ہوں اب میں کدھر کا Read More »

جا بجا تم بیٹھنے اٹھنے لگے جس تس کے پاس

غزل جا بجا تم بیٹھنے اٹھنے لگے جس تس کے پاس کون کہتا ہے کہاں کس وقت کس دن کس کے پاس نام اگر منظور ہو تو یہ ہنر پیدا کرو امتیاز اخلاق ادب دلجوئیاں مجلس کے پاس لذتیں دونوں جہانوں کی ہوئیں اس کو نصیب ماہرو سیمیں بدن غنچہ دہن ہو جس کے پاس

جا بجا تم بیٹھنے اٹھنے لگے جس تس کے پاس Read More »

بسکہ ہوں دل تنگ خوش آتا ہے صحرائے قفس

غزل بسکہ ہوں دل تنگ خوش آتا ہے صحرائے قفس بلبل بے بال و پر رکھتی ہے سودائے قفس پالنا منظور ہے تو دست پرور کر اسے طائر وحشی مبادا دیکھ مر جائے قفس دیکھ کے صیاد کو محو تماشا ہو گئی بلبل تصویر سے مت پوچھ ایذائے قفس ہم دعا ہو ہم صفیرو تا

بسکہ ہوں دل تنگ خوش آتا ہے صحرائے قفس Read More »

عرش تا فرش سیر کر دیکھا

غزل عرش تا فرش سیر کر دیکھا جلوہ گر تو ہوا جدھر دیکھا چشم تحقیق سے جہاں ڈھونڈا گبر ہوں تجھ سوا اگر دیکھا قشریوں کی سمجھ پہ حیراں ہوں دوسرا ہے کہاں کدھر دیکھا تیر کے نام پر تڑپتا ہے اس طرح کا کہیں جگر دیکھا آبلہ آبلہ ہوئے سب عضو نخل الفت نے

عرش تا فرش سیر کر دیکھا Read More »

مر ہی گئے جفاؤں سے قاتل تڑپ تڑپ

غزل مر ہی گئے جفاؤں سے قاتل تڑپ تڑپ میں کیا کہ اور کتنے ہی بسمل تڑپ تڑپ پنجڑے کو توڑ سینے کے یہ مرغ دل مرا نکلے گا کوئی دم ہی میں غافل تڑپ تڑپ کہتے ہیں اضطراب ہے تیرا پسند یار آرام و صبر بھول جا گھائل تڑپ تڑپ میں کس روش سے

مر ہی گئے جفاؤں سے قاتل تڑپ تڑپ Read More »

چہرے پہ جو تیرے نظر کر گیا

غزل چہرے پہ جو تیرے نظر کر گیا جان سے وہ اپنی گزر کر گیا جس کی طرف سے تری آنکھیں پھریں اشک کے مانند سفر کر گیا منہ کو دیکھا اپنے وہ خورشید رو شام غریباں کو سحر کر گیا اس کو نکالے کوئی کس طور سے تیر مژہ سینے میں گھر کر گیا

چہرے پہ جو تیرے نظر کر گیا Read More »

آنکھوں کو تری دیکھیں گے مے خانہ کہیں گے

غزل آنکھوں کو تری دیکھیں گے مے خانہ کہیں گے ہونٹوں سے اگر پوچھو گے پیمانہ کہیں گے موقوف فقط ہم پہ نہیں یار اسے سن جو تجھ سے ملے گا اسے دیوانہ کہیں گے وابستہ تری ذات سے بستی ہے جہاں کی جب تو نہ ہوا خلق میں ویرانہ کہیں گے مرنے سے ترے

آنکھوں کو تری دیکھیں گے مے خانہ کہیں گے Read More »

مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن

غزل مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن کیا کروں فن کچھ آوتی نہیں بن کچھ نہیں آتی سرو قد سیں بن پھرتا ہوں گرد باد جیوں بن بن زلف تیری سیاہ ناگن ہے چھین لیتی ہے ہر کسی کا من درس سیں علم کے ہے دل بیزار خوب رویاں کا خوب ہے

مجھ سیں اور دل ربا سیں ہے ان بن Read More »