MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوے

غزل اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوے تعجب نہیں کہ سب پانی ستی بوئے گلاب آوے جدھاں دیکھوں بہاراں میں نشاط بلبل و قمری مجھے اس وقت بے شک یاد ایام شباب آوے مرا افسانہ و افسوں ترے کن سبز کیونکے ہو سیہ مژگاں تمہاری دیکھ کے سبزے کوں خواب آوے مری […]

اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوے Read More »

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا

غزل مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا تری انکھیاں سلونی سانولی کا گیا تن سوکھ انکھیاں تر ہیں غم سیں ہوا ہوں شاہ خشکی و تری کا جبھی تو پان کھا کر مسکرایا تبھی دل کھل گیا گل کی کلی کا کہتا ہوں وصف دنداں و مسی کے مزا لیتا ہوں اب تل چاولی کا

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا Read More »

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں

غزل لوگ ہر چند پند کرتے ہیں عاشقاں کب پسند کرتے ہیں جامہ زیباں دکھا کے قد اپنا دل عشاق بند کرتے ہیں نگہ گرم سیں سدا عاشق آتش دل بلند کرتے ہیں شوخ چشماں لے جانے کوں دل کے خم ابرو کمند کرتے ہیں جو کہ تجھ لعل لب کے طالب ہیں قند کوں

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں Read More »

عشق ہے عشق پاک بازی کا

غزل عشق ہے عشق پاک بازی کا گو کہ ہو عالم مجازی کا عشق کا طفل گر زمیں اوپر کھیل سیکھا ہے خاک بازی کا دل کو مژگاں نیں لے کے پنجے میں کام کیتا ہے شاہبازی کا کیمیا سیم تن سیں ملتا ہے یہی ہے فن سیم سازی کا فضل احمد سیں شعر یکروؔ

عشق ہے عشق پاک بازی کا Read More »

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے

غزل تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے مجھ شب کی روشنی کوں تجھ رخ کا ماہ بس ہے سرمہ سے گرد مژگاں صف باندھ کے بٹھی ہیں شاہ نین کوں تیری یو قبلہ گاہ بس ہے دل کی شکستگی سوں پایا ہوں بادشاہی کرنے کوں سروری کے ایسی کلاہ بس ہے

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے Read More »

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم

غزل کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم طوفان ہے پہاڑ کوں ڈالی اکھاڑ چشم ندی کنار روکھ کا ہو ہے نہ باس راست رو کرے بہائے اشک سیں مژگاں کے جھاڑ چشم عاشق کا جان کیونکے بچے گا کہ آج دل خوں ہو تری نگاہ سیں نکسے ہے پھاڑ چشم وہ خوش

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم Read More »

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات

غزل اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات شاہ معشوقاں کے آگے کیا ہے یہ ایتی بساط کیوں نہ دوڑے تب دوانا ہو کے مجنوں دشت کوں جب لکھی ہو عاشقاں کی شاخ آہو پہ برات جھلجھلاتی ہے مہیں جامے سیں تیرے تن کی جوت ماہ کا خرمن ہے اے خورشید رو

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات Read More »

گل کو شرمندہ کر اے شوخ گلستان میں آ

غزل گل کو شرمندہ کر اے شوخ گلستان میں آ لب سیں غنچے کا جگر خوں کرو مسکیان میں آ وہی اک جلوہ نما جگ میں ہے دوجا کوئی نہیں دیکھ واجب کوں سدا مجمع امکان میں آ زندگی مجھ دل مردہ کی توہیں ہے مت جا دل سے گر خوش نہیں اے شوخ مری

گل کو شرمندہ کر اے شوخ گلستان میں آ Read More »

مست انکھیاں کا دیکھ دنبالہ

غزل مست انکھیاں کا دیکھ دنبالہ دل مرا ہو گیا ہے متوالا لب ترے لعل ہیں بدخشاں کے دانت تیرے ہیں لولو اے لالہ دیکھ گلشن میں آتشیں رخسار داغ ہو جل گیا گل لالہ اشک دریا نمن نین سیں چلیں جب کروں درد دل ستی نالہ بر میں یکروؔ کے کیوں نہ آیا ہائے

مست انکھیاں کا دیکھ دنبالہ Read More »

تجھ قد کی ادا سرو گلستاں سیں کہوں گا

غزل تجھ قد کی ادا سرو گلستاں سیں کہوں گا جادوئے نین نرگس بستاں سیں کہوں گا دیکھا ہوں ترے لب پہ میں مسی کی دھڑی کوں ظلمات پے جا چشمۂ حیواں سیں کہوں گا مجھ دل کی لگن تجھ سیں ہے اے خوبیٔ محفل پروانہ نمن شمع شبستاں سیں کہوں گا پیدا کیا تجھ

تجھ قد کی ادا سرو گلستاں سیں کہوں گا Read More »