MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا

غزل اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا سبب کیا ہے تجھے مجھ سے نمانے سے بہانے کا ہوئی مدت نہیں طاقت مرے دل کوں جدائی کی کرم کر آ سجن یا فکر کر میرے بلانے کا شہ خوباں مرے گھر رات کو آیا ہے اے مطرب مرا دل شاد ہے گا […]

اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا Read More »

جائز ہے ہر اک حربہ اس وقت سیاست میں

غزل جائز ہے ہر اک حربہ اس وقت سیاست میں پتھر کا بیاں لے لو شیشے کی عدالت میں لفظوں سے جدا ہو کر اک لفظ ہوا تنہا فرسودہ خیالوں کی مقبوضہ ریاست میں نکلا تھا جلوس اپنے تاریک مقدر کا معزول تمدن کی مفلوج قیادت میں عفریت عداوت کا ہر وقت ڈراتا تھا ہم

جائز ہے ہر اک حربہ اس وقت سیاست میں Read More »

صدیوں سے تھا جو درپئے آزار گر گیا

غزل صدیوں سے تھا جو درپئے آزار گر گیا اپنا عدو وہ غازیٔ گفتار گر گیا کپڑوں کی قید سے ہوا آزاد اس کا جسم وہ شخص جس گھڑی سر بازار گر گیا جب سرخیوں پہ اپنی نگاہیں ٹھہر گئیں ہاتھوں سے اپنے آج کا اخبار گر گیا بے خواب رہ کے سب کو وہ

صدیوں سے تھا جو درپئے آزار گر گیا Read More »

اپنی آنکھوں کے صدف کو حسن کا گوہر نہ دے

غزل اپنی آنکھوں کے صدف کو حسن کا گوہر نہ دے شام کی ویرانیاں دے صبح کا منظر نہ دے ساتھ ہے بے چہرگی کے کارواں کا سلسلہ دوستی کے آئنے کو یاد کا جوہر نہ دے سرد رومانی پہر کا جذبۂ تخلیق ہوں مجھ کو ایام گزشتہ کی کوئی چادر نہ دے فکر و

اپنی آنکھوں کے صدف کو حسن کا گوہر نہ دے Read More »

بیٹھی تھی کسی شاخ پہ جب رات کی تتلی

غزل بیٹھی تھی کسی شاخ پہ جب رات کی تتلی اڑتی تھی ہواؤں میں خیالات کی تتلی نادان سے بچے نے اسے قید کیا تھا کمزور ہوئی تھی مرے جذبات کی تتلی یک لخت ہوئی جسم کے محلات میں روپوش مجبور بہت تھی مرے حالات کی تتلی جذبوں کی مہک روح کے پھولوں میں نہیں

بیٹھی تھی کسی شاخ پہ جب رات کی تتلی Read More »

مانا کہ ارادے ترے خونخوار بہت ہیں

غزل مانا کہ ارادے ترے خونخوار بہت ہیں اس عہد کے فن کار بھی خوددار بہت ہیں کیوں میری طرف لطف و عنایت کی نظر ہے ہستی کے شفا خانے میں بیمار بہت ہیں تم جاؤ گے بازار تو دیکھو گے تماشہ زخموں کے گلابوں کے خریدار بہت ہیں یوں میری طرف سنگ ملامت نہ

مانا کہ ارادے ترے خونخوار بہت ہیں Read More »

نغموں کے قافلے کا میں تنہا نقیب تھا

غزل نغموں کے قافلے کا میں تنہا نقیب تھا یا شاخ کائنات پہ اک عندلیب تھا اپنا کوئی رفیق نہ کوئی رقیب تھا میں خواہشوں کی بزم میں سب کے قریب تھا زینے پہ قصر وقت کے چڑھتا چلا گیا میرا شکستہ حوصلہ جو خوش نصیب تھا اس کے بدن سے لپٹی ہوئی تھی لہو

نغموں کے قافلے کا میں تنہا نقیب تھا Read More »

درد کا شہر ہے ارمان کی باتیں کر لیں

غزل درد کا شہر ہے ارمان کی باتیں کر لیں سارے روندے ہوئے انسان کی باتیں کر لیں غم و آلام کی لکھی ہے کہانی ہم نے بزم احباب میں عنوان کی باتیں کر لیں خود غرض لوگوں میں حاتم کو کہاں ڈھونڈیں ہم کوئے افلاس میں امکان کی باتیں کر لیں نفع و نقصاں

درد کا شہر ہے ارمان کی باتیں کر لیں Read More »

دل اپنا آب جوئے حقائق کے پاس ہے

غزل دل اپنا آب جوئے حقائق کے پاس ہے محروم کیوں ازل سے مرے فن کی پیاس ہے ہر لمحہ اپنا رنگ بدلتا ہے یہ جہاں اب وقت کو بھی دیکھیے موقع شناس ہے میرے یقیں کے راستے تاریک ہیں بہت اک عزم کا چراغ مگر اپنے پاس ہے کہنے لگے ہو مجھ کو ہی

دل اپنا آب جوئے حقائق کے پاس ہے Read More »

غم زدہ کتنا ہمارے ذہن کا سایہ رہا

غزل غم زدہ کتنا ہمارے ذہن کا سایہ رہا سنگ زار فکر و فن سے خود کو ٹکراتا رہا میں تفکر کے اندھیرے غار میں بیٹھا رہا پاس میرے واہموں کے شیر کا ڈیرا رہا حرص کے خورشید کی ایسی پذیرائی ہوئی عظمتوں کے آسماں کا رنگ پھیکا سا رہا لفظ کی بارش میں ساری

غم زدہ کتنا ہمارے ذہن کا سایہ رہا Read More »