MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خاک اوڑھے ہوئے اِک خواب کی تعبیر کا دُکھ

خاک اوڑھے ہوئے اِک خواب کی تعبیر کا دُکھاُس کو کھا جائے گا اِک دِن میری تشہیر کا دُکھ تُم نے زنداں میں فقط میری اسیری دیکھیاب دِلا دیکھ ذرا پاوں کی زنجیر کا دُکھ جِس نے کاٹا ہے جوانی میں بُڑھاپے کا سفرآبتاتی ہوں تُجھے ہائے میرے وِیر کا دُکھ وقتِ رُخصت وہ جو

خاک اوڑھے ہوئے اِک خواب کی تعبیر کا دُکھ Read More »

سامنے لاؤ اس فسادی کو

سامنے لاؤ اس فسادی کوجس نے لُوٹا ہے دل کی وادی کو اک فلک زاد نے مُحبت میںتوڑ ڈالا زمین زادی کو۔ کون کہتا ہے بوجھ ہیں بوڑھےمیں سنبھالوں گی دادا ، دادی کو جس میں گھر بیچنا پڑے بابامیں نہ مانوں گی ایسی شادی کو بادشاہا ترے مشیروں نےنوچ ڈالا ہے شاہ زادی کو

سامنے لاؤ اس فسادی کو Read More »

اپنے تورات دن یہاں ایسے بسر ہوئے

اپنے تورات دن یہاں ایسے بسر ہوئےجیسےکسی غریب کے شام و سحر ہوئے امرت نگر کی خاک کو آنکھوں سے چُوم کرمُجھ شاعرہ کے حرف بھی کُچھ مُعتبر ہوئے تُو ساتھ تھا تو آسماں تھے اختیار میںتُو جا چُکا تو بے صدا بے بال و پر ہوئے کہنے کو ایک شخص تھا جو اب نہیں

اپنے تورات دن یہاں ایسے بسر ہوئے Read More »

اُسکی نظرمیں پنہاں محبت پہ رائے دو

اُسکی نظرمیں پنہاں محبت پہ رائے دوپھر شہرِ کم نگہ کی بِصارت پہ رائے دو میں نے کہا کہ آپ کےچرچے ہیں چار سُواس نے کہا نہیں مری شہرت پہ رائے دو! جسکو تمہاری یاد نے پتھر بنا دیاپلکیں اُٹھاو اس کی شباہت پہ رائے دو اپنے وظیفے یاد ہیں ہوں گے تمہیں مگرمیری وفا

اُسکی نظرمیں پنہاں محبت پہ رائے دو Read More »

یہاں پر دل لگانے کی سزائیں خُوب ملتی ہیں

یہاں پر دل لگانے کی سزائیں خُوب ملتی ہیںمُحبت کرنے والوں کو جفائیں خُوب ملتی ہیں کسِی ٹوٹے ہوئے دل پر ذرا سا پیار کا مرہماگر بُھولے سے بھی رکھ دیں دُعائیں خُوب ملتی ہیں نجانے موسموں کو ان سے کیا بغض و عداوت ہےبنِا مانگے جِنہیں غم کی گھٹائیں خُوب ملتی ہیں تمُہاری یاد

یہاں پر دل لگانے کی سزائیں خُوب ملتی ہیں Read More »

کبھی ذِلت کبھی رُسوائی نہیں دیکھی ہے

کبھی ذِلت کبھی رُسوائی نہیں دیکھی ہےعِشق والوں نے تو پسپائی نہیں دیکھی ہے حُسنِ یُوسف کے مُجھے قِصے سُنانے والےتونے چاہت یہ زُلیخائی نہیں دیکھی ہے اُس نے چہرے پہ قصیدے تو بُہت لِکھے ہیںلیکن اس دِل پہ جمی کائی نہیں دیکھی ہے مِل کے بانٹا تھا اثاثہ جوکبھی بھائیوں نےساتھ کھیلی تھی جو

کبھی ذِلت کبھی رُسوائی نہیں دیکھی ہے Read More »

ہوا میں دیپ جلانے کا یقیں کرتے ہیں

ہوا میں دیپ جلانے کا یقیں کرتے ہیںیعنی اک وہم کو اس دل میں مکیں کرتے ہیں ہم پہنتے ہیں تُجھے روز ہی زیور کی طرحاور تمنا کو تِری اس میں نگیں کرتے ہیں اپنی کم شکلی کا ہے زُعم کہ ہم دیکھتے ہیںہائے جو کام یہاں روز حسیں کرتے ہیں تم کو پڑھتے ہیں

ہوا میں دیپ جلانے کا یقیں کرتے ہیں Read More »

تُمھاری باتوں پہ کُچھ اعتبار تھا ہی نہیں

تُمھاری باتوں پہ کُچھ اعتبار تھا ہی نہیںوہ جس کو پیار کہا تُم نے پیار تھا ہی نہیں میں کیسے ویدوں حکیموں سے مشورے کرتی؟تمہارا پیار نشہ تھا ،بُخار تھا ہی نہیں یہ میری آنکھیں ترے پاؤں سے لپٹتی گئیںوگرنہ راہوں میں کوئی بھی خار تھا ہی نہیں میں دربدر نہ بھٹکتی تو اور کیا

تُمھاری باتوں پہ کُچھ اعتبار تھا ہی نہیں Read More »

ادُھورے خواب بچوں کو وصیت کر کے جاوں گی

ادُھورے خواب بچوں کو وصیت کر کے جاوں گیبِکھر کر کیسے جینا ہے نصیحت کر کے جاوں گی مٹادوں گی میں نفر ت لفظ کو ساری کتابوں سےمُحبت میں مگر تھوڑی سہولت کر کے جاوں گی نکالوں گی تُجھے دل سے مگرپھر خُوب رو رو کےقیامت سے بھی پہلے اک قیامت کر کے جاوں گی

ادُھورے خواب بچوں کو وصیت کر کے جاوں گی Read More »

شاہ کے آگے نہ مُحتاط، اِسے کیا کہیے

Shah Kay Aagay na Muhtaat issay kia kehyee غزل شاہ کے آگے نہ مُحتاط، اِسے کیا کہیےھائے کیا شخص تھا سُقراط، اِسے کیا کہیے ھم تو حیران و پریشاں ھیں تِری محفل میںایک عالم بنا بُقراط، اِسے کیا کہیے وید رزّاقیِّ قُدرت پہ نہ لائے ایماںاور کرتے رھے اِسقاط، اِسے کیا کہیے واں بتدریج خُوشی

شاہ کے آگے نہ مُحتاط، اِسے کیا کہیے Read More »