MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کچھ اور شغل شبِ انتظار کیا کرتا

Kuch Aur Shagle Shab e Intizar kiya karna غزل کچھ اور شغل شبِ انتظار کیا کرتاسِوائے دامنِ دل تار تار کیا کرتا مِرے مزاج کی شائِستگی نے روک دیامیں دُشمنوں پہ کوئی اپنے وار کیا کرتا ھواس و ھوش ھی قائم نہ رہ سکے میرےپھر اھتمامِ سرِ کوئے یار کیا کرتا کبھی نکل نہ سکا

کچھ اور شغل شبِ انتظار کیا کرتا Read More »

عجیب بزم کا نقشہ ہے کیا کیا جاٸے

عجیب بزم کا نقشہ ہے کیا کیا جاٸےہر ایک چہرےپہ چہرہ ہے کیا کیا جاٸے ہوا میں شورسا برپا ہے کیا کیا جاٸےلہو لہان پرندہ ہےکیا کیا جاٸے تمہار شہر میں بے چہرہ جسم پھرتے ہیںہر ایک شخص ادھورا ہے کیا کیا جاٸے شک آسماں کاہوا أس کو خطِ پانی پرکہ چاند جھیل میں أترا

عجیب بزم کا نقشہ ہے کیا کیا جاٸے Read More »

کتی شعاعیں پھوٹی ہیں آکر تلاش کر

کتی شعاعیں پھوٹی ہیں آکر تلاش کرمیرے بدن میں دھوپ کے منظر تلاش کر بادِ صبا کی ٹہنی پہ زخموں کی شکل میںیادوں کےسُرخ سُرخ گُلِ تر تلاش کر جس کی غزل میں میر کی طرزِ سُخن ملےشہرِ سُخن میں ایسے سُخنور تلاش کر وہ گمشدہ جزیرہ کہیں مل ہی جاٸے گاآنکھوں میں بوند بوند

کتی شعاعیں پھوٹی ہیں آکر تلاش کر Read More »

دیوار ہے پر سایہ ٕ دیوار نہیں ہے

دیوار ہے پر سایہ ٕ دیوار نہیں ہےہر شخص یہاں صاحبِ کردار نہیں ہے دل میرا ہے یہ مصر کا بازار نہیں ہےاس دل کا یہاں کوٸی خریدار نہیں ہے اک مقصدِ حیات ہر انساں کے ساتھ ہےآنا کسی کا دنیا میں بے کار نہیں ہے أٹھ باندھ کمر جانبِ منزل ہو روانہرستہ زرا مشکل

دیوار ہے پر سایہ ٕ دیوار نہیں ہے Read More »

ہمیں قبول ہیں الزام سب لگاٸے ہوٸے

ہمیں قبول ہیں الزام سب لگاٸے ہوٸےتمہاری بزم میں بیٹھے ہیں سر جُھکاٸےہوٸے ہماری آنکھوں میں جو اشکِ غم ہیں آٸے ہوٸےکسی کے حُسنِ تغافل کے ہیں ستاٸے ہوٸے ہمیں پہ نظرِ کرم آپ کی نہیں ہوتیالم تو ہم بھی محبت کے ہیں أٹھاٸے ہوٸے کبھی تو أن کو حقیقت نگاہ سے دیکھوجو قصّے لگتے

ہمیں قبول ہیں الزام سب لگاٸے ہوٸے Read More »

عجیب شہر کا منظر دکھاٸی دیتا ہے

عجیب شہر کا منظر دکھاٸی دیتا ہےہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھاٸی دیتا ہے وہ اشک جو کسی مظلوم کی ہیں پلکوں پرمجھے وہ اشک سمندر دکھاٸی دیتا ہے قضاٸے وقت سے سہما ڈرا ڈرا بچہوہ آج بھی میرے اندر دکھاٸی دیتا ہے نگاہ کرتا ہوں جب بھی گناہ پر اپنےہر ایک شخص ہی بہتر

عجیب شہر کا منظر دکھاٸی دیتا ہے Read More »

زندگی مجبور ہے معزور ہے لاچار ہے

زندگی مجبور ہے معزور ہے لاچار ہےہم کو أڑنے کے لیۓ بس حوصلہ درکار ہے آج شاٸد گھر کے آنگن میں مرے أترا ہے چاندآج رخشندہ مرےگھر کی ہر اک دیوار ہے ہم کہاں تھے اور کہاں سے ہم کہاں تک آگٸےاب تو کہیٸے کیا ارادہ آپ کا سرکار ہے آپ نے غربت کدے میں

زندگی مجبور ہے معزور ہے لاچار ہے Read More »

مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگا

مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگانیا فسانۂ درد و الم رقم ہوگا یہ مانتی ہوں مٹا دے گا میرا دور مجھےنئے زمانے کا اس خاک سے جنم ہوگا میں اپنے آپ کی پہچان بھول بیٹھی ہوںاب اس سے اور بڑا کیا کوئی ستم ہوگا نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہےیہ

مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگا Read More »

جادۂ درد کے حالات مرے اپنے ہیں

جادۂ درد کے حالات مرے اپنے ہیںراہ کے سارے طلسمات مرے اپنے ہیں قفل گو ڈال گیا دست تشدد لب پرہم نوا میرے خیالات مرے اپنے ہیں کیسے ہو رد بلا کیا ہو تباہی سے گریزوہ جو ہیں باعث آفات مرے اپنے ہیں دیر سے مجھ پہ جو ہیں سنگ زنی میں مصروفدیکھتی ہوں تو

جادۂ درد کے حالات مرے اپنے ہیں Read More »

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوں

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوںاور اگر کچھ بن نہیں پڑتا چپکے چپکے رو لوں ہوں موتی اشک ستارے آنسو زرداروں کی تشبیہاتبھوک میں پلکوں پر گویا میں جوار کے دانے تولوں ہوں جب کوئی زردار ملے ہے راہ میں اپنی چال میں مستپتھر سے کیا ٹکرانا میں ایک

رحل پہ ہاتھوں کی رکھ کر میں رخ کا صحیفہ سوچوں ہوں Read More »