MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سامنے لاؤ اس فسادی کو

سامنے لاؤ اس فسادی کو
جس نے لُوٹا ہے دل کی وادی کو

اک فلک زاد نے مُحبت میں
توڑ ڈالا زمین زادی کو۔

کون کہتا ہے بوجھ ہیں بوڑھے
میں سنبھالوں گی دادا ، دادی کو

جس میں گھر بیچنا پڑے بابا
میں نہ مانوں گی ایسی شادی کو

بادشاہا ترے مشیروں نے
نوچ ڈالا ہے شاہ زادی کو

جب چھلک جائیں جام آنکھوں کے
کون روکے نشے کے عادی کو

زریں مُنور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم