MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مسدسِ بد حالی

سیاست کا ہر پہلواں لڑ رہا ہےیہاں لڑ رہا ہے، وہاں لڑ رہا ہےبیاں کے مقابل بیاں لڑ رہا ہےحسابِ دلِ دوستاں لڑ رہا ہےستارہ نظر مہ جبیں لڑ رہے ہیںیہ حد ہےکہ پردہ نشیں لڑ رہے ہیں مزاجوں میں یوں لیڈری آگئی ہےکہ گھر گھر کی اپنی الگ پارٹی ہےکوئی شیر ہے تو کوئی

مسدسِ بد حالی Read More »

زندگی ہے مختلف جذبوں کی ہمواری کا نام

زندگی ہے مختلف جذبوں کی ہمواری کا نامآدمی ہے شلجم اور گاجر کی ترکاری کا نام​ عِلم الماری کا ، مکتب چار دیواری کا ناممِلٹن اِک لٹھا ہے ، مومن خان ، پنساری کا نام​ صاف کالر کے تلے ، معقول اک اُجلی سی قمیضہے بہت ہی مختصر سا میری دُشواری کا نام​ اُس نے

زندگی ہے مختلف جذبوں کی ہمواری کا نام Read More »

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوںہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوںدو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سرمجھ کو ڈالو موتیے کے ہار،

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں Read More »

ہر جہالت کوٹھڑی میں شمع دانش نور عین

ہر جہالت کوٹھڑی میں شمع دانش نور عینبلے بلے لالہ مصری خان تیری لالٹین پھول حسن زندگی ہے پھول رنگ کائناتتو جہاں بھی جائے پرسیں پھول تیرے ساتھ ساتھ تیری بانہوں پر بھی پھولوں کے ہمیں گجرے قبولبات تو جب ہے اگیں مزدور کی کٹیا میں پھول ہو "کلہاڑا” یا درانتی تیر یا تلوار ہواسلحہ

ہر جہالت کوٹھڑی میں شمع دانش نور عین Read More »

دیکھے مغرب میں کیا عجیب سور

دیکھے مغرب میں کیا عجیب سورقامت فیل کے قریب سور ہر خرابی میں "خر” خرا دے سےبے سوادے سے، بد نہادے سے اپنے ارذل تریں قبیلے کےکچھ حرامی امیر زادے سے صاف شفاف جگمگائے ہوئےدن میں دو مرتبہ نہائے ہوئے جو کو ترسیں مرے وطن کے لوگوہ مقوی غذائیں کھائے ہوئے "مال ٹال” اپنے خبث

دیکھے مغرب میں کیا عجیب سور Read More »

مغربی اسلوب کی ماری ہوئی کچھ لڑکیاں

مغربی اسلوب کی ماری ہوئی کچھ لڑکیاںبات کرنا انگلو اردو میں سمجھیں فرض بھی کر رہی تھی گھر میں پنکی بات یہ سسٹرز سےپڑھ کے امریکہ سے آئے ہیں میرے سسرز بھی باجی سچ مانو وہ اپنی "جینز” میں شاہینز ہیںوہ لگیں ٹیچرز بھی ایکٹرز بھی شوہرز بھی "مسجدز” میں جاکے یہ کوئی کہے "ملاز”

مغربی اسلوب کی ماری ہوئی کچھ لڑکیاں Read More »

کچھ یوں بھی بارِ غم میں أٹھایا نہیں کرتا

کچھ یوں بھی بارِ غم میں أٹھایا نہیں کرتادانستہ ڈھوکریں کبھی کھایا نہیں کرتا شکرِخُدا کہ صبر کی دولت ہوٸی عطا ٕشکوہ کبھی زبان پہ لایا نہیں کرتا ملتا ہوں سب سے پیار سے یہ بھی بجا ہے دوستخاطر میں دشمنوں کو میں لایا نہیں کرتا جس سے کہ شان جاتی ہے اجداد کی مرےایسا

کچھ یوں بھی بارِ غم میں أٹھایا نہیں کرتا Read More »

گر عزم نہیں دوستو پُر خار ہیں رستے

گر عزم نہیں دوستو پُر خار ہیں رستےہمت اگر ہے وادٸی گلزار ہیں رستے جس سمت نظر جاٸے ہیں خاموش کھڑے ہیںمیری ہی طرح آج یہ بیمار ہیں رستے نفرت کے شراروں نے جہاں رقص کیا تھاوہ آج محبت کے طلبگار ہیں رستے گلپوش بداماں وہ جدھر سے بھی گٸے ہیںسنتا ہوں کہ وہ اب

گر عزم نہیں دوستو پُر خار ہیں رستے Read More »

شاخ سے ٹوٹ کے پتے جو بکھر جاتےہیں

شاخ سے ٹوٹ کے پتے جو بکھر جاتےہیںکون جانے کہ وہ پھر أڑ کے کدھر جاتے یہ نہیں دیکھتا وہ روز کدھر جاتےہیںسایہ بن جاتاہوں أن کا وہ جدھر جاتے ہیں ہم کہ بے راہ روی میں یونہی چلتے چلتےصاف ہوجاتی ہے جب گردِ سفر جاتے ہیں میکدے ہی میں تو شب اپنی گزر جاتی

شاخ سے ٹوٹ کے پتے جو بکھر جاتےہیں Read More »

ہائے وہ عشق وہ جذبہ وہ لگاؤ پہلا

ہائے وہ عشق وہ جذبہ وہ لگاؤ پہلااب کہاں عِشق کے دریا میں بہاؤ پہلا جس طرح بچہ کوئی پہلا کھلونا رکھےمیرے معصوم دنوں کا ہے تُو چاؤ پہلا یاد ہیں آج بھی وہ حیلے بہانے لیکنبھُول پائی نہ تری آنکھ کا داؤ پہلا اب تو مُمکن ہی نہیں لوٹ کے واپس آؤںلاکھ باتوں میں

ہائے وہ عشق وہ جذبہ وہ لگاؤ پہلا Read More »