MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تُمھاری باتوں پہ کُچھ اعتبار تھا ہی نہیں

تُمھاری باتوں پہ کُچھ اعتبار تھا ہی نہیں
وہ جس کو پیار کہا تُم نے پیار تھا ہی نہیں

میں کیسے ویدوں حکیموں سے مشورے کرتی؟
تمہارا پیار نشہ تھا ،بُخار تھا ہی نہیں

یہ میری آنکھیں ترے پاؤں سے لپٹتی گئیں
وگرنہ راہوں میں کوئی بھی خار تھا ہی نہیں

میں دربدر نہ بھٹکتی تو اور کیا کرتی
سوائے عشق کوئی اور کار تھا ہی نہیں

میں مات دے کے جو دُشمن کو اپنے گھر آئی
کسی کے ہاتھ میں پھولوں کا ہار تھا ہی نہیں

کِسی نے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے میرے لیے
سو میری پُشت پہ دُشمن کا وار تھا ہی نہیں

زریں منور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم