MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وقت مزدور ہے اجرت دیجے

وقت مزدور ہے اجرت دیجے
ایک اک لمحے کی قیمت دیجے

مجھ سے یہ بوجھ نہیں اٹھ سکتا
مشورہ کوئی مجھے مت دیجے

ہجر کی رات نہیں ڈھلنے کی
اب چراغوں کو اجازت دیجے

کام کچھ دل کے ہیں کچھ دنیا کے
اک ذرا سی مجھے مہلت دیجے

دل کو آباد ہی کرنا ہے تو پھر
وہی دیوار وہی چھت دیجے

دل ہے دنیا تو نہیں ہے کوئی
جتنی چاہے اسے وسعت دیجے

خود بھی رکھ سکتے ہیں ہم اپنا خیال
کیا کسی اور کو زحمت دیجے

کاشف حسین غائر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم