MOJ E SUKHAN

وہ ہنس رہا ہے اسے دل دکھانا آتا ہے

وہ ہنس رہا ہے اسے دل دکھانا آتا ہے
میں رو رہا ہوں مجھے مسکرانا آتا ہے

ہم ایسے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے
ہمارے بعد ہمارا زمانہ آتا ہے

دیے جلاؤں گا یوں ہی میں صبح ہونے تک
وہ دل جلائے جسے دل جلانا آتا ہے

نئے مکاں میں نئے خواب دیکھتے ہیں لوگ
ہمیں تو یاد وہی گھر پرانا آتا ہے

یہ بحر عشق ہے غائرؔ کوئی مذاق نہیں
وہی بچے گا جسے ڈوب جانا آتا ہے

کاشف حسین غائر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم