MOJ E SUKHAN

اک درد دل میں عشق کا یوں عمر بھر رہا

اک درد دل میں عشق کا یوں عمر بھر رہا
بدنام اس جہاں میں مرا چارہ گر رہا

لے کر چلا ہے وہ مجھے دنیا سے دور اب
اک انتظارِ وصل جو شام و سحر رہا

ظلمات بھی جفا کی نہ بھٹکا سکی مجھے
روشن تمہاری یاد سے داغِ جگر رہا

کوئی نہ ساتھ دے سکا شامِ فراق میں
بس درد میری ذات میں محوِ سفر رہا

پامال کر دیا تھا چمن آندھیوں نے جو
صحرا سمجھ کے اس میں کوئی عمر بھر رہا

زخموں میں بھر گیا وہ ترے نام کا نمک
کہنے کو نام اس کا مگر چارہ گر رہا

جاں تو گئی ہے دار پہ حق کے لئے مگر
پہنچا ہے اوج پر، وہ جو بے بال و پر رہا

مدت کے بعد در پہ ہے دستک کوئی نسیم
ہاتھوں کو چوم لونگی اگر نامہ بر رہا

نسیم بیگم نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم