MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہوگا نہ کبھی وعدہ وفا رات گئے تک

ہوگا نہ کبھی وعدہ وفا رات گئے تک
بس ہجر کی آئے گی صدا رات گئے تک

جب یاد تری آئی سر شام ستمگر
نیندوں کو میں روتا ہی رہا رات گئے تک

اشکوں سے ہی دھل جاتا ہے ہر صبح یہ قرطاس
یوں نام تو لکھتے ہیں ترا رات گئے تک

آنسو نظر آتے ہی نہیں دن میں کسی کو
رونے کو میں روتا ہی رہا رات گئے تک

تو آئے کہ نہ آئے مری بزم میں جاناں
جلتا ہے امیدوں کا دیا رات گئے تک

یہ درد کے انگار فقط دن میں نہیں ہیں
ملتا ہے وفاوں کا صلہ رات گئے تک

خوشبو کو ترستا ہے چمن باد نسیمی
آتی رہی گلشن سے صدا رات گئے تک

نسیم بیگم نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم