MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھیکی صبحیں پھیکا سورج

پھیکی صبحیں پھیکا سورج روٹھی شامیں ڈھلتا سورج تجھ سے وابستہ تھی دنیا میں نے تجھ کو سمجھا سورج رب سے جا کر یہ پوچھوں گی کیسی دنیا کیسا سورج جیتے مرتے ہر دم سوچا قسمت میں ہے کیسا سورج میں نے خوابوں کی وادی میں سچ مج ڈھلتے دیکھا سورج ڈاکٹر حنا امبرین طارق

پھیکی صبحیں پھیکا سورج Read More »

خلوصِ دل کا حسیں لبادہ تو روشنی ہے

خلوصِ دل کا حسیں لبادہ تو روشنی ہے کہ زندگی کا یقین سادہ تو روشنی ہے مسافتوں میں جو منزلوں کی نوید ٹھہرا وہ ایک رستہ کریں کشادہ تو روشنی ہے نظر نظر میں کہیں اجالا کہیں اندھیرا کہیں مگر حوصلہ زیادہ تو روشنی ہے ستم ظریفی کا ہر بہانہ ہی معتبر تھا کرم کریں

خلوصِ دل کا حسیں لبادہ تو روشنی ہے Read More »

خوشبو بھرے حصار میں ، قربت کی حد میں تھی

خوشبو بھرے حصار میں ، قربت کی حد میں تھی کچھ اس طرح میں اس کی محبت کے مد میں تھی خاموشیوں کا شور بھی کچھ حد سے بڑھ گیا اِس عالمِ جنوں میں بھی میں اپنے قد میں تھی اس آخری چراغ کے بجھنے کے خوف سے ساری فضائے شہر ہی وحشت کی زد

خوشبو بھرے حصار میں ، قربت کی حد میں تھی Read More »

ہمیں بھی وار کرنا چاہئے تھا

ہمیں بھی وار کرنا چاہئے تھا چلو اک بار کرنا چائے تھا ہمیں دستور سے باہر نکل کر کوئی انکار کرنا چاہئے تھا محبت دور تک پھیلی ہوئی تھی تو پھر اظہار کرنا چاہئے تھا اگر عادت ہماری ہو رہی تھی تمہیں اقرار کرنا چاہئے تھا اسے تم یاد تو کرتے رہے پر دوانہ وار

ہمیں بھی وار کرنا چاہئے تھا Read More »

یہ آساں ہے ، کوئی مشکل نہیں ہے

یہ آساں ہے ، کوئی مشکل نہیں ہے کہ جھٹلانے سے کچھ حاصل نہیں ہے حقیقت ہے نئی وہ کہکشاں بھی فقط اک رات کی جھل مل نہیں ہے ہر اک دھڑکن ہے وابستہ تمہی سے مرے قابو میں اب یہ دل نہیں ہے سفر میں ساتھ رہنے سے یہ جانا وہ میری راہ میں

یہ آساں ہے ، کوئی مشکل نہیں ہے Read More »

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئےکچھ وار مجھ کو زہر شناسائی چاہیئے کل تک تھے مطمئن کہ مسافر ہیں رات کےاب روشنی ملی ہے تو بینائی چاہے توفیق ہے تو وسعت صحرا بھی دیکھ لیںیہ کیا کہ اپنے گھر کی ہی انگنائی چاہیئے ارمان تھا تمہیں کو کہ سب ساتھ میں رہیںاب تم ہی کہہ

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے Read More »

خبر تو دور امین خبر نہیں آئے

خبر تو دور امین خبر نہیں آئےبہت دنوں سے وہ لشکر ادھر نہیں آئے یہ بات یاد رکھیں گے تلاشنے والےجو اس سفر پہ گئے لوٹ کر نہیں آئے طلسم اونگھتی راتوں کا توڑنے والےوہ مخبران سحر پھر نظر نہیں آئے ضرور تجھ سے بھی اک روز اوب جائیں گےخدا کرے کہ تری رہ گزر

خبر تو دور امین خبر نہیں آئے Read More »

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیںکوچ کر جائیں کب کچھ بھروسا نہیں ہیں فصیلوں سے الجھے ہوئے سرپھرےدور تک کوئی شہر تمنا نہیں شام سے ہی گھروں میں پڑیں کنڈیاںچاند اس شہر میں کیوں نکلتا نہیں آگ لگنے کی خبریں تو پہنچیں مگرکوئی حیرت نہیں کوئی چونکا نہیں چھین کر مجھ سے لے جائے

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں Read More »

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئیآج تک ہم سے یہی بس ایک نادانی ہوئی سیکڑوں پردے اٹھا لائے تھے ہم بازار سےگتھیاں کچھ اور الجھیں اور حیرانی ہوئی ہم تو سمجھے تھے کہ اس سے فاصلے مٹ جائیں گےخود کو ظاہر بھی کیا لیکن پشیمانی ہوئی کیا بتائیں فکر کیا ہے اور

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی Read More »

سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھے

سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھےبچھڑ کے تجھ سے عجب روگ لگ گیا ہے مجھے جو مڑ کے دیکھا تو ہو جائے گا بدن پتھرکہانیوں میں سنا تھا سو بھوگنا ہے مجھے میں تجھ کو بھول نہ پایا یہی غنیمت ہےیہاں تو اس کا بھی امکان لگ رہا ہے مجھے میں سرد

سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھے Read More »