MOJ E SUKHAN

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے
سارے تعینات سے اک دن مفر ملے

افواہ کس نے ایسی اڑائی کہ شہر میں
ہر شخص بچ رہا ہے نہ اس سے نظر ملے

دشواریاں کچھ اور زیادہ ہی بڑھ گئیں
گھر سے چلے تو راہ میں اتنے شجر ملے

طے کرنا رہ گئی ہیں ابھی کتنی منزلیں
جو آگے جا چکے ہیں کچھ ان کی خبر ملے

ممکن ہے آڑے آئیں زمانہ شناسیاں
تم بھی ہماری راہ میں حائل اگر ملے

قضیہ ہو موسموں کا نہ دن کا نہ رات کا
اب کے اگر ملے بھی تو ایسا سفر ملے

لوگوں کو کیا پڑی تھی اٹھاتے اذیتیں
صحرا کی خاک چھانتے آشفتہ سر مل

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم