MOJ E SUKHAN

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا

وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا

جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا

بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا

کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

فاطمہ حسن​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم