MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے

اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے
آنسوؤں کو حدِ آداب میں رکھا ہم نے

پھر لہو میں ہے کوئی ذائقۂ بت شکنی
اتنے دن تک تجھے محراب میں رکھا ہم نے

تڑ تڑانے لگا بپھرے ہوئے تاروں کا جلوس
پاؤں کیا خیمۂ مہتاب میں رکھا ہم نے

یار سمجھے کہ وہی بے سر و سامانی ہے
اک ترا دھیان ہی اسباب میں رکھا ہم نے

اُس کی باتوں نے بھی بیلیں سی بنائیں سرِ دل
سو اُسے بھی صفِ احباب میں رکھا ہم نے
اختر عثمان​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم