MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اجڑا ہوا نگر ہے یہاں اور کچھ نہیں

اجڑا ہوا نگر ہے یہاں اور کچھ نہیں
تنہائیوں کا ڈر ہےیہاں اور کچھ نہیں

کشتی کنارے بحر سے اب دیکھتے ہو کیا
بپھرا ہوا بھنور ہے یہاں اور کچھ نہیں

دیکھو گے اب کہاں کسی پرواز کا سماں
بس اک شکستہ پر ہے یہاں اور کچھ نہیں

قدموں کی چاپ ہے نہ کوئی آشنا صدا
آسیب دربدر ہے یہاں اور کچھ نہیں

کیسی تلاش کون سی منزل کہاں کی راہ
گردِ رہِ سفر ہے یہاں اور کچھ نہیں

عمرِ رواں کا سیل ٹھہرتا نہیں کہی
یہ ایک ہی خبر ہے یہاں اور کچھ نہیں

بزمِ جہاں کا حسنِ جواں دیکھتے چلو
اک مہلتِ نظر ہے یہاں اور کچھ نہیں

جمیل یوسف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم