MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تپتے پتھر کی سلوں پر کوئی چشمہ لکھ دے

تپتے پتھر کی سلوں پر کوئی چشمہ لکھ دے
اس کڑی دھوپ کے آنگن کوئی سایہ لکھ دے

ان سرابوں سے کوئی موجِ رواں بھی ابھرے
خشک صحرا کے ورق پر کوئی دریا لکھ دے

آسمانوں سے مرے ساری بلائیں ٹل جائیں
اسم کوئی مری تقدیر میں ایسا لکھ دے

معجزہ کوئی مرے عہد میں بھی ظاہر ہو
میرا ماضی مری قسمت میں دوبارہ لکھ دے

سنگ و آہن کے مکانوں سے بہت دور کہیں
لبِ ساحل کوئی مٹی کا گھروندا لکھ دے

آنے والی کسی موہوم مسرت کی جگہ
میرے بچپن کا کوئی ٹوٹا کھلونا لکھ دے

بخش دے دوسروں کو دہر کی دولت ساری
مجھ کو بس شعر کی عظمت کا خزینہ لکھ دے

جمیل یوسف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم