MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لمحوں میں زندگی کا سفر یوں گزر گیا

ایک غریب شاعر کی موت لمحوں میں زندگی کا سفر یوں گزر گیا سائے میں جیسے کوئی مسافر ٹھہر گیا مخمور تھا نشے میں غم روزگار کے ہوش آ گیا تو عمر کا پیمانہ بھر گیا دولت بھی اس کے ہاتھ نہ آئی تمام عمر کچھ نام ہی نہ اپنا زمانے میں کر گیا سب […]

لمحوں میں زندگی کا سفر یوں گزر گیا Read More »

بیگم سے کہا ہم نے جو فرصت ہے آپ کو

بیگم اور پتلون   بیگم سے کہا ہم نے جو فرصت ہے آپ کو پتلون میں ہماری بٹن ایک ٹانک دو غصے سے بولیں آپ ہی خود ٹانک لیں جناب بیوی کا جب مذاق اڑاتے رہے ہیں آپ بیوی بغیر آدمی ہوتے نہیں پورے میں نہ رہوں تو آپ بھی رہ جائیں ادھورے یوں تو

بیگم سے کہا ہم نے جو فرصت ہے آپ کو Read More »

اگر دعوت ہو کھانے کی تو اس میں سوچنا کیا ہے

غزل اگر دعوت ہو کھانے کی تو اس میں سوچنا کیا ہے نہیں گر یہ خدا کی دین تو اس کے سوا کیا ہے جو گھر میں دال روٹی روز ہی کھائے بلا ناغہ وہی جانے گا بریانی متنجن میں مزا کیا ہے مرا یہ مشورہ تو مان لے ہوگا بھلا تیرا کبھی یہ بھول

اگر دعوت ہو کھانے کی تو اس میں سوچنا کیا ہے Read More »

میری محبوب تجھے میری محبت کی قسم

میری محبوب میری محبوب تجھے میری محبت کی قسم اپنی ہلکی سی شرافت کا اشارہ دے دے جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے اے مری جاں مرے الجھے ہوئے مقطع کی غزل جسے دیکھا نہیں اس خواب کی الٹی تعبیر تو مہرباں ہو تو کھل جائے مرے دل کا کنول اپنی بے لوث

میری محبوب تجھے میری محبت کی قسم Read More »

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے

غزل ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے بدن پر اک پھٹی لنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ادھر میں کثرت اولاد سے لاغر ادھر ان کی زباں

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے Read More »

سفارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

غزل سفارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی نوازش کی ضرورت ہی نہ ہوتی اگر آتا ہمیں حق چھین لینا گزارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی اگر سوکھے کنویں شبنم سے بھرتے تو بارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی نہیں آتے اگر دنیا میں ہم تو رہائش کی ضرورت ہی نہ ہوتی حسینوں کا جو ہوتا

سفارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی Read More »

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے

غزل ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے بدن پر اک پھٹی لنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ادھر میں کثرت اولاد سے لاغر ادھر ان کی زباں

ہمیشہ کی طرح تنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے Read More »

پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے

غزل پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے یوں سمجھو بلی کے بھاگوں ٹوٹا چھیکا لگتا ہے پھیکا لنچ اور ڈنر بھی عمدہ اور تیکھا لگتا ہے نقلی تیل میں تلا سموسہ اصلی گھی کا لگتا ہے شادی ایک چیونگم ہے جو پہلے میٹھا لگتا ہے پھر منہ میں جتنا گھولو گے اتنا

پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے Read More »

میں نے پوچھا کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے

غزل میں نے پوچھا کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے نہ تو میک اپ ہے نہ بالوں کو سجا رکھا ہے چھیڑتی رہتی ہیں اکثر لب و رخساروں کو تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے مسکراتے ہوئے اس نے یہ کہا شوخی سے ایک دیوانے نے دیوانہ بنا رکھا ہے

میں نے پوچھا کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے Read More »

غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں

غزل غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں چاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیں وصل ہو وصل الٰہی کہ مجھے تاب نہیں دور ہوں دور مرے ہجر کے ایام کہیں لگ رہی ہیں ترے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے تج کو دیکھا تھا مگر ان نے لب بام کہیں عاشقوں

غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں Read More »