MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خوب انداز پذیرائی ہے

غزل خوب انداز پذیرائی ہے عزت نفس پہ بن آئی ہے غم دوراں غم جاناں غم جاں میری ان سب سے شناسائی ہے ہاتھ پھیلایا ہے اپنے آگے یہ گدائی ہے کہ دارائی ہے دل کے آئینے میں یہ تو ہے کہ میں ایک صورت سی نظر آئی ہے تجربہ یہ ہے کہ ہر زلف […]

خوب انداز پذیرائی ہے Read More »

کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتا

غزل کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتا نظر ہمیں کوئی اہل نظر نہیں آتا ہوائے دشت یہ تاثیر خود فراموشی بہت دنوں سے تصور میں گھر نہیں آتا عجب شناور بحر وجود ہیں ہم بھی ہمیں زمان و مکاں کا سفر نہیں آتا لہو سے لفظ کی تخلیق ہم نہیں کرتے جبھی تو اپنے

کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتا Read More »

تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا

غزل تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا ہم پر تو جو ستم بھی ہوا بے سبب ہوا اس ساعت سعید کو کیا نام دیجئے انساں اسیر وقت کے زنداں میں جب ہوا شعلہ صفت ہیں رقص میں اپنے چمن کے پھول اس عالم‌ بہار میں یہ کیا غضب ہوا شاید یہی مذاق طلب

تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا Read More »

اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروں

غزل اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروں میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے کیا کروں یہ درد دل تو حاصل عمر دراز ہے میں اس کو اپنی ذات سے کیوں کر جدا کروں دنیا یہی کرے گی تو دنیا سے پیشتر مجروح کیوں نہ خود ہی میں اپنی انا کروں دنیا میں

اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروں Read More »

سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو

غزل سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو مری انائے خفی کو سوال ہی سمجھو وہ روبرو ہیں مرے دل مگر یہ کہتا ہے خیال حسن کو حسن خیال ہی سمجھو رفاقتوں کے قرینے بدلتے رہتے ہیں سو کرب‌ ہجر کو لطف وصال ہی سمجھو تڑپ رہے ہیں جو یوں ہم صدائے ساز کے

سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو Read More »

دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجود

غزل دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجود یہ سرزمیں اداس ہے بارش کے باوجود خیرہ نہ کر سکے نگہ امتیاز کو جھوٹے نگیں نمود و نمائش کے باوجود ایک پھول بھی چمن میں نہ دل کھول کر ہنسا شبنم کے آنسوؤں کی گزارش کے باوجود کیا قہر ہے کہ جھوٹ میں ملتی ہے عافیت

دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجود Read More »

کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی

غزل کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی تہی سخن سے نہیں ہے سکوت صحرا بھی فضائے دشت میں اہل جنوں کے ہنگامے ہمیں تو راس نہ آئی مگر یہ دنیا بھی زمین تشنہ دہن کی صدا تو آئی تھی مگر یہ بات کہ ابر بہار برسا بھی یہ بوئے گل بھی پریشاں بہت ہوئی

کوئی پیام مسلسل ہے شور دریا بھی Read More »

وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں

غزل وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں بوڑھے ہیں نا جذبات کے پابند نہیں ہیں خوابوں میں نکل جاتے ہیں ارمان ہمارے ہم دن میں ملاقات کے پابند نہیں ہیں بے وجہ بھی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں اکثر سیلاب جو برسات کے پابند نہیں ہیں حالات کی گردش رہی پابند ہماری ہم

وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں Read More »

ہمیں کوئی مطلب نہیں لا مکاں سے

غزل ہمیں کوئی مطلب نہیں لا مکاں سے غرض ہے ہمیں صرف اپنے مکاں سے غموں کا یہ عالم ہے جانے کہاں سے چلے آ رہے ہیں یہاں سے وہاں سے نکالے گئے ہیں جو ہم آشیاں سے شکایت نہیں ہے ہمیں باغباں سے کہیں برق پر بجلیاں نہ گری ہوں یہ شعلہ سا اٹھتا

ہمیں کوئی مطلب نہیں لا مکاں سے Read More »

لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلے

غزل لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلے ارادوں میں ہمارے جانے کتنے پیچ و خم نکلے یہ سوچا تھا کہ گھر سے بھاگ کر شادی رچائیں مگر جب وقت آیا تو نہ وہ نکلیں نہ ہم نکلے سنا ہے راستے ہی میں پولیس نے دھر لیا ان کو ہمارے دل پہ جب

لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلے Read More »