MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تم سے اب کامیاب اور ہی ہے

غزل تم سے اب کامیاب اور ہی ہے آہ ہم پر عذاب اور ہی ہے اس کو آئینہ کب پہنچتا ہے حسن کی آب و تاب اور ہی ہے رند واعظ سے کیوں کہ سربر ہو اس کی چھو، کی کتاب اور ہی ہے ہجر بھی کم نہیں ہے دوزخ سے اس سفر کا عذاب […]

تم سے اب کامیاب اور ہی ہے Read More »

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح

غزل کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح ساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے دیوانے کی طرح یار کے پاؤں پہ سر رکھ جی کو اپنے دیجئے اس سے بہتر اور نہیں ہوتی ہے مر جانے کی طرح کب پلاوے گا تو اے ساقی مجھے جام شراب جاں بلب ہوں آرزو

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح Read More »

قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے

غزل قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے تصور بھی چمن کا ہم کو بس ہے بجائے رخنۂ دیوار گلشن ہمیں صیاد اب چاک قفس ہے فغاں کرتا ہی رہتا ہے یہ دن رات الٰہی دل ہے میرا یا جرس ہے کٹیں گے عمر کے دن کب کے بے یار مجھے اک اک گھڑی سو

قفس سے چھوٹنے کی کب ہوس ہے Read More »

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش

غزل تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش بلا سے تیری میں نا خوش ہوں یا خوش خوشی تیری جسے ہر دم ہو درکار کوئی اس سے نہیں ہوتا ہے نا خوش کوئی اب کے زمانہ میں نہ ہوگا الٰہی آشنا سے آشنا خوش فلک کے ہاتھ سے اے خالق خلق کوئی

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش Read More »

ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے

غزل ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے ستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کے غزالوں کو تری آنکھیں سے کچھ نسبت نہیں ہرگز کہ یہ آہو ہیں شہری اور وے وحشی ہیں جنگل کے گرفتاری ہوئی ہے دل کو میرے بے طرح اس سے کہ آئے

ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے Read More »

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

غزل ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت طائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت گو ظل ہما مت ہو رہے سر پہ ہمارے تا حشر تیرا سایۂ دیوار سلامت اطوار ترے باعث آفات جہاں ہیں آثار ترے ہیں گے سب آثار قیامت صیاد نہ اب بے پر و بالوں کو

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت Read More »

ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں

غزل ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں باراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوں زاہد ہو اور تقویٰ عابد ہو اور مصلیٰ مالا ہو اور برہمن صہبا ہو اور ہم ہوں مجنوں ہیں ہم ہمیں تو اس شہر سے ہے وحشت شہری ہوں اور بستی صحرا ہو اور

ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں Read More »

میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا

غزل میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا راتوں کے تئیں کر کے فریاد بہت رویا حسرت میں دیا جی کو محنت کی نہ ہوئی راحت میں حال ترا سن کر فرہاد بہت رویا گلشن سے وہ جوں لایا بلبل نے دیا جی کو قسمت کے اوپر اپنی صیاد بہت رویا نشتر تو

میں ہو کے ترے غم سے ناشاد بہت رویا Read More »

کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا

غزل کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا ہوا معلوم یوں شاید کیا کم ان نے پیار اپنا ہوا بھی عشق کی لگنے نہ دیتا میں اسے ہرگز اگر اس دل پہ ہوتا ہائے کچھ بھی اختیار اپنا یہ دونو لازم و ملزوم ہیں گویا کہ آپس میں نہ یار اپنا کبھو

کئی دن ہو گئے یارب نہیں دیکھا ہے یار اپنا Read More »

یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیں

غزل یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیں نگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیں چراغ گور نہ شمع مزار رکھتے ہیں بس ایک ہم یہ دل داغ دار رکھتے ہیں شراب عشق نہ اے دوست پیجیو ہرگز اسی نشے کا ہم اب تک خمار رکھتے ہیں مری زبانی کوئی اس سے

یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیں Read More »