MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگر دعوت ہو کھانے کی تو اس میں سوچنا کیا ہے

غزل

اگر دعوت ہو کھانے کی تو اس میں سوچنا کیا ہے
نہیں گر یہ خدا کی دین تو اس کے سوا کیا ہے

جو گھر میں دال روٹی روز ہی کھائے بلا ناغہ
وہی جانے گا بریانی متنجن میں مزا کیا ہے

مرا یہ مشورہ تو مان لے ہوگا بھلا تیرا
کبھی یہ بھول کر مت دیکھ دستر پہ رکھا کیا ہے

مقدر میں جو لکھا ہے ترے کھا لے اسے ڈٹ کر
تکلف تو سراسر اک اذیت کے سوا کیا ہے

سمجھ لے نام تیرا ہی لکھا ہے دانے دانے پر
کبھی مت سوچ معدے کے لئے اچھا برا کیا ہے

تو حفظ ما تقدم اور اطمینان کی خاطر
پکڑ کر میزباں کو پوچھ لے آخر پکا کیا ہے

کبھی تو نے پڑھا بھی ہے مرے کپڑے کے دستر پر
جلی حرفوں کی جو تحریر ہے اس میں لکھا کیا ہے

شکم کو کر وسیع اتنا کہ ہر پکوان سے پہلے
تجھے خود میزباں پوچھے بتا تیری غذا کیا ہے

مجھے کھانے کے فوراً بعد ہی پھر بھوک لگتی ہے
کوئی تو یہ بتائے ؔخواہ مخواہ مجھ کو ہوا کیا ہے

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم