MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے
شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے

کسی کا بھی نہ چراغوں کی سمت دھیان گیا
شب نشاط وہ کب کب بجھے تھے کب روئے

ہزار گریہ کے پہلو نکلنے والے ہیں
اسے کہو کہ وہ یوں ہی نہ بے سبب روئے

ہمارے زاد سفر میں بھی درد رکھا گیا
سو ہم بھی ٹوٹ کے روئے سفر میں جب روئے

کسی کی آنکھ ہی بھیگی نہ سیل درد گیا
تمہاری یاد میں اب کے برس عجب روئے

ترے خیال کی لو ہی سفر میں کام آئی
مرے چراغ تو لگتا تھا روئے اب روئے

کچھ اپنا درد ہی طارقؔ نعیم ایسا تھا
بغیر موسم گریہ بھی ہم غضب روئے

طارق نعیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم