MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے

اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے
اُٹھو کہ تم کو جگانے والا کوئی نہیں ہے

کیا ہے ثابت یہ کربلا نے کہ مومنوں کو
سوا خدا کے جھکانے والا کوئی نہیں ہے

محافظ اپنے ہو آپ ہی تم، یہ یاد رکھو
جہاں میں تم کو بچانے والا کوئی نہیں ہے

تمہارے رہبر ہیں آلِ احمد، کتابِ برحق
کہ اور راستہ دکھانے والا کوئی نہیں ہے

یہاں پہ بستی جلانے والے بہت ہیں لیکن
چراغِ ایماں جلانے والا کوئی نہیں ہے

فضا میں بارود اُڑ رہی ہے جدھر بھی دیکھو
جہاں میں اب گُل کھلانے والا کوئی نہیں ہے

خدا نے وعدہ کیا ہے تم سے اے حق پرستو
تمہیں زمیں پر مٹانے والا کوئی نہیں ہے

تمہارے سر پر ہے جب تلک سایہء نبوت
سروں کی قیمت لگانے والا کوئی نہیں ہے​

منظر بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم