MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی ہماری بھی کیا اداؤں والی ہے

زندگی ہماری بھی کیا اداؤں والی ہے
تھوڑی دھوپ جیسی ہے ، تھوڑی چھاؤں والی ہے

پھر لہو میں ڈوبا ہے ، آدمی کا مستقبل
یہ صدی جو آئی ہے ، کربلاؤں والی ہے

سب سے جھک کے ملتا ہے ، سب سے پیار کرتا ہے
یہ جو ہے ادا اس میں ، یہ تو گاؤں والی ہے

اس کے ذرے ذرے میں ، حسن ہے محبت ہے
یہ ہماری دھرتی تو اپسراؤں والی ہے

کس کی یاد آئی ہے ، کون یاد آیا ہے
پھر ہماری آنکھوں میں رُت گھٹاؤں والی ہے

موت کی طرف منظؔر بھاگتی ہے تیزی سے
عمر کتنے صحت مند ہاتھ پاؤں والی ہے

منظر بھوپالی
​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم