شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں
غزل شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں یا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروں وہ کہ اک مدت تلک جس کو بھلا کہتا رہا آہ اب کس منہ سے ذکر اس کی برائی کا کروں آب زمزم سے میں دھو لوں اپنی پیشانی کے تئیں در پہ تب اس کے ارادہ جبہہ […]
شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں Read More »