MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں

غزل شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں یا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروں وہ کہ اک مدت تلک جس کو بھلا کہتا رہا آہ اب کس منہ سے ذکر اس کی برائی کا کروں آب زمزم سے میں دھو لوں اپنی پیشانی کے تئیں در پہ تب اس کے ارادہ جبہہ […]

شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں Read More »

پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبث

غزل پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبث قتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبث کیا مری آنکھ عدم بیچ لگی تھی اے چرخ کیا اس خواب سے تو نے مجھے بیدار عبث وصل ہی اس کا دوا ہے مری بیماری کو اور کچھ کرتے ہیں تدبیر یہ غم خوار عبث یار

پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبث Read More »

کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو

غزل کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو مجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجو ہوئے سنگ جفا سے شیشۂ دل کے کئی ٹکڑے بس اب اس سے زیادہ اور چکناچور مت کیجو مرے مرہم گزار اس شوخ بے پروا سے یہ کہیو کہ ظالم زخم تازہ ہے اسے ناسور مت

کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو Read More »

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا

غزل میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا اشک یوں تھم رہے ہیں مژگاں پر کوئی موتی پرو نہیں سکتا شب مرا شور گریہ سن کے کہا میں تو اس غل میں سو نہیں سکتا مصلحت ترک عشق ہے ناصح لیک یہ ہم سے ہو نہیں سکتا کچھ

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا Read More »

لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا

غزل لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا جو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیا دور تجھ سے ساغر مے پر نظر میں نے جو کی کاسہ اپنا چشم نے خوناب دل سے بھر دیا جو سلوک اب دل میں آویں کر مجھے تقدیر نے دست و بازو

لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیا Read More »

یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ

غزل یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ بلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذ وہ کون دن ہے کہ غیروں کو خط نہیں لکھتا قلم کے بن کو لگے آگ اور جلے کاغذ تمام شہر میں تشہیر میرے بد خو نے پیام بر کو کیا باندھ کر گلے

یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذ Read More »

رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی

غزل رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی وہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئی یہ کہیو ہم نشیں مجھے کیا کیا نہ کہہ گئے میں گھٹ گیا نہ آپ کی کچھ ذات بڑھ گئی بوسے کے نام ہی پہ لگے کاٹنے زباں کتنی عمل سے آگے مکافات بڑھ گئی چشموں

رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی Read More »

زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے

غزل زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے تیری آنکھوں نے کیا آپ سا بیمار مجھے دل بجھا جائے ہے اغیار کی شورش پہ مرا سرد کرتی ہے تری گرمئ بازار مجھے عقل ہی موجب تکلیف ہوئی ہے ناداں کر گئی بے خبری آ کے خبردار مجھے تخت اور چتر سلاطیں کو مبارک ہووے

زلف تیری نے پریشاں کیا اے یار مجھے Read More »

دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں

غزل دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں صبر بیمار عشق کی ہے دوا پر طبیعت سے میری راس کہاں صبح آنے کا اس کے وعدہ ہے مجھ کو پر رات بھر کی آس کہاں دشمن جاں کو دوست سمجھا میں وہ کہاں میں کہاں قیاس کہاں کیا

دل اب اس دل شکن کے پاس کہاں Read More »

کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا

غزل کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا سوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھا یہ لوگ منع جو کرتے ہیں عشق سے مجھ کو انھوں نے یار کو دیکھا ہے یا نہیں دیکھا بھلائی کیا دل کافر نے بت میں پائی ہے جہاں میں کوئی اتنا برا نہیں دیکھا کچھ اس جہاں

کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا Read More »