MOJ E SUKHAN

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

غزل

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت
طائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت

گو ظل ہما مت ہو رہے سر پہ ہمارے
تا حشر تیرا سایۂ دیوار سلامت

اطوار ترے باعث آفات جہاں ہیں
آثار ترے ہیں گے سب آثار قیامت

صیاد نہ اب بے پر و بالوں کو تو اب چھوڑ
پھر حسرت گل دے گی ہمیں سخت اذیت

اسباب جہاں کی تو دلا فکر نہ کر تو
حاصل نہیں کچھ اس میں بجز رنج و مشقت

چھوڑوں گا نہ میں تجھ کو ترے خط کے بھی آئے
تو تب بھی نہ ہو یار تو یہ بھی مری قسمت

تاباںؔ تو سدا سیر ہر اک گل کی کیا کر
اس گلشن ہستی کا نظارا ہے غنیمت

تاباں عبد الحی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم