MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی

تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھیرقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی جرأت جو ہوئی تو کیوں کرسایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے اہل ثروت کی یہ تجویز ہے سرکش لڑکیتجھ کو دربار میں کوڑوں سے نچایا جائے ناچتے ناچتے ہو جائے جو پائل خاموشپھر نہ تا زیست

تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی Read More »

( گوہر کے نام )

( گوہر کے نام )کاش ایسا ہوکبھی رات کو جلدی سوئیںصبح اٹھیںتو زمین پرکسی موہوم بشارت کی طرحاک نیا دن ہوجسے خوف نہ ہو مرنے کاجس کی چاہت بھری کرنوں کی سُپرداری میںفاختاؤں کو کوئی ڈر نہ رہے، ڈرنے کاجس کی خوشبوئی ہوئی آنکھوں کے نذرانے میںگھر کھُلے چھوڑ کے جائیں میرے جانے والےجز محبت

( گوہر کے نام ) Read More »

نیند کی ٹہنی پر

نیند کی ٹہنی پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سارے خواب کہاں پھلتے ہیںاکثر خواب توکچی نیند کی ٹہنی پر ہی مر جاتے ہیںباقی ماندہتعبیروں کے پھانسی گھاٹاتر جاتے ہیں۔تھوڑے سے جو بچ رہتے ہیںدنیا کی ناشکری آنکھ میںتازہ جگنو بھر جاتے ہیںلیکن دنیا،پیتل پر سونے کا رنگ چڑھاتی دنیا!!خوابوں سے گھبرا جاتی ہےجگنو بیچ کے کھا جاتی ہے۔ حسین مجروح

نیند کی ٹہنی پر Read More »

وحشت ہو فزوں اور ، ہو تن سوختہ جاں اور

Wehshat ho Fazoo aur ho tan sokhta jaaN aur غزل وحشت ہو فزوں اور ، ہو تن سوختہ جاں اوراے عشق ، تُجھے اِذن ہے، کر جی کا زیاں اور کچھ اور عطا ہو ابھی گفتار کی خوشبوکچھ اور ذرا مہکے مرا قریہء جاں ، اور کیوں قیس تلاشے نہ مرے نقشِ قدم کو ؟دیوانہ

وحشت ہو فزوں اور ، ہو تن سوختہ جاں اور Read More »

کوئی جبرِ مشترک ہے جو سبب تک آ گیا ہے

غزل کوئی جبرِ مشترک ہے جو سبب تک آ گیا ہےمرے ہر سوال میں ہی کوئی دکھ چھپا ہوا ہے ہمیں کیا خبر کہ اس نے ہمیں کس نظر سے دیکھایہ ہماری دسترس سے بڑی دور کی فضا ہے وہاں گفتگو تھی تجھ سے یہاں دو بدو ہے خود سےوہ فراق دوسرا تھا یہ فراق

کوئی جبرِ مشترک ہے جو سبب تک آ گیا ہے Read More »

ہمارے ہنسنے ہنسانے پہ کیوں زوال آیا

غزل ہمارے ہنسنے ہنسانے پہ کیوں زوال آیاجب اس نے طنز کیا تب ہمیں خیال آیا مجھے ستایا جہاں نے تو میں نے اف بھی نہ کیاداس وہ ہوئی تب مجھ کو اشتعال آیا وہ ہنس پڑی تو مری سوچ کام کرنے لگیؔمیں خوش ہوا کہ مرے ذہن میں سوال آیا گھرا ہوا تھا میں

ہمارے ہنسنے ہنسانے پہ کیوں زوال آیا Read More »

انا سے برسرِ پیکار ہونا پڑتا ہے

  غزل انا سے برسرِ پیکار ہونا پڑتا ہےوہ روٹھ جائے تو بیمار ہونا پڑتا ہے عجیب ہوتی ہیں تنہائیوں کی سوچیں بھیکبھی کبھی تو گنہ گار ہونا پڑتا ہے کبھی کبھی تری صورت کو دیکھنے کے لیےبہت ہی پہلے سے تیار ہونا پڑتا ہے کسی کی بزم میں کچھ دیر بیٹھنے کے لیےرہینِ لذتِ

انا سے برسرِ پیکار ہونا پڑتا ہے Read More »

ذہن میں اب رہا نہیں کچھ بھی

غزل ذہن میں اب رہا نہیں کچھ بھیاس لیے سوچتا نہیں کچھ بھی کب سے کیا کیا بنا رہا ہوں میںپر ابھی تک بنا نہیں کچھ بھی سب نے مجھ پر بہت ترس کھایاپر کسی نے دیا نہیں کچھ بھی بے سوالی کی لذتیں بھی گئیںکاش میں مانگتا نہیں کچھ بھی روح کو چیخنا سکھاتا

ذہن میں اب رہا نہیں کچھ بھی Read More »

حیات کیا ہے یہی سوچتے رہے اور بس

غزل حیات کیا ہے یہی سوچتے رہے اور بسجہاں کھڑے تھے وہیں پر کھڑے رہے اور بس نہ کام آئے کسی کے نہ خود کو پہچانابلا جواز قلندر بنے رہے اور بس دعا قبول ہوئی اور وہ پاس آ بھی گئیپھر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور بس اسے سلام کیا اور کوئی بات کہیپھر

حیات کیا ہے یہی سوچتے رہے اور بس Read More »

عہدِ فراق ہے نہ یہ عہدِ وصال ہے

غزل عہدِ فراق ہے نہ یہ عہدِ وصال ہےکیسا عجب تضادِ عروج و زوال ہے آیا جو اس کا دھیان تو سر کو جھٹک لیایہ سوچ کر کہ یہ تو پرانا خیال ہے کستا نہیں ہے کوئی بھی آوازہ ان دنوںمحسوس ہو رہا ہے کہ دنیا نڈھال ہے سوچا تھا تم سے کم ہی مراسم

عہدِ فراق ہے نہ یہ عہدِ وصال ہے Read More »