MOJ E SUKHAN

سمجھ رہے تھے کہ ٹل رہے ہیں

سمجھ رہے تھے کہ ٹل رہے ہیں
عذاب روحوں میں پل رہے ہیں

بہار میں کیسی بے رخی ہے
پرندے تلخی میں ڈھل رہے ہیں

عداوتوں کے چھڑے ہیں قصے
ذہن میں چہرے ابل رہے ہیں

ہیں دست بستہ عذاب سارے
سلگتے لمحوں پہ چل رہے ہیں

یقین مانوکہ آستیں میں
تمہارے جیسے ہی پل رہے ہیں

نئی محبت تمہیں مبارک
ہم اپنے رستے بدل رہے ہیں

بہار چہروں کی سر زمیں پر
خزاں کے وحشی مچل رہے ہیں

خراماں چلتے ہیں جو ذہن میں
سر ان کے قبضے میں شل رہے ہیں

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم