میں آس بَوتا ہوں، اُس کو شَجر بناتا ہوں
میں آس بَوتا ہوں، اُس کو شَجر بناتا ہوں میں روز ذہن کے زِنداں میں ، دَر بناتا ہوں تِرے خیال کی وُسعَت ہے ، آسمانوں سی اُڑان بَھرنے کو میں اپنے پَر بناتا ہوں یہ رَتجگے ہیں مُقدّر ، یہ تَشنگی ہے نصیب میں کوٸی کوزہ نہیں ، کوزہ گر بناتا ہوں سَفر میں رہتا ہوں دَریا ہو ، دَشت ہو کہ نگر ملے جو پیار کا
میں آس بَوتا ہوں، اُس کو شَجر بناتا ہوں Read More »