MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کام کرنے کا کچھ عوام کریں

کام کرنے کا کچھ عوام کریں ذہن سازی پہ تھوڑا کام کریں یہ محبت ازل سےپھیلی ہے صرف نفرت کی روک تھام کریں تلخیاں ضد میں جتنی اڑیل ہوں شہد لہجے اُنھیں غلام کریں شہرِ پُر درد تیرے سناٹے سسکیاں توڑ کر کلام کریں ہےمرے ملک کی فضا بوجھل ان ہواوں کو کیسے رام کریں؟

کام کرنے کا کچھ عوام کریں Read More »

ہوں! محبت نگر کا باشندہ!

ہوں! محبت نگر کا باشندہ! نفرتو! بچ کے رہنا آئندہ! جانے! کتنے دیوں کی خواہش تھی وہ کریں گے جہان رخشندہ! روزنوں میں دیے بجھا کر اب آندھیاں چل رہی ہیں؛ شرمندہ! سچ کی انگلی پکڑ کے جینے سے جھوٹ خود کہہ اٹھے گا ،سچ زندہ! جو قلم چل پڑے دلیرانہ لفظ رہتے ہیں اس

ہوں! محبت نگر کا باشندہ! Read More »

دل میں کیوں اتر نہیں رہے؟

دل میں کیوں اتر نہیں رہے؟ لوگ ! معتبر نہیں رہے! منہ میں جوکُھدی ہیں خندقیں ان کو بند کر نہیں رہے موت کھا رہی ہے زندگی پھر بھی لوگ ڈرنہیں رہے وقت کاٹنے کی دوڑ میں زندگی بسر نہیں رہے فکر دے رہی ہے آگہی کوئی بے خبر نہیں رہے آنکھ سب کی نازیہ

دل میں کیوں اتر نہیں رہے؟ Read More »

وہی ٹھہرے گا معتبر صاحب!

وہی ٹھہرے گا معتبر صاحب! جس کو مل جائے رب کا در صاحب! خاک چھانی پرائی چھلنی سے نفس کر دے نہ دربدر صاحب! گوشمالی بہت ضروری ہے خود پہ رکھنا کڑی نظر صاحب! انگلیوں پر گنیں گے ہر نیکی اور بدی ہم پہ کارگر صاحب! آدمی بے بسی کا حامل ہے اختیارات جتنے کر

وہی ٹھہرے گا معتبر صاحب! Read More »

دلِ خوش فہم اعتبار نہ کر

دلِ خوش فہم اعتبار نہ کر اب کسی کا بھی انتظار نہ کر اس جہانِ طٙرٙب میں ہو کر گُم دوریاں رب سے اختیار نہ کر اپنے ایمان کے تحفظ میں خود کو غفلت سے ہمکنار نہ کر پُر فتن دور سے ہو رب کی پناہ دل گناہوں سے داغدار نہ کر آخرت کا خیال

دلِ خوش فہم اعتبار نہ کر Read More »

حصہ بنا کے پیار کو اپنے شِعار کا

حصہ بنا کے پیار کو اپنے شِعار کا ہر دم خیال کیجیے سب کے وقارکا دولت کے بل پہ آپ نہ اترائیے جناب! پھرخوب حظ اٹھائیں گےاس کےخمارکا تپ چڑھ گئی ہےآپ کو،تپنے میں ہے مزہ پر کچھ علاج کیجیے اپنے بخار کا پتھر کو جونک لگتی نہیں،اور ضرب سے ہوتا نہیں اثر کبھی پتھر

حصہ بنا کے پیار کو اپنے شِعار کا Read More »

میری ہستی کو اگر کُل کا پتا مل جائے

میری ہستی کو اگر کُل کا پتا مل جائے ڈوب کر عشقِ حقیقی میں خدا مل جائے خاک بھی کرنے لگی رب سےنمو کی خواہش مجھ کو زرخیز چمن آب و ہوا مل جائے رب کی صناعی بھی ، اعجاز بھی ہے میرا وجود بس جسد کو مرے ، ایماں کی قبا مل جائے ایک

میری ہستی کو اگر کُل کا پتا مل جائے Read More »

سینے میں دل دھڑادھڑ دھڑکے ہی جا رہا ہے

سینے میں دل دھڑادھڑ دھڑکے ہی جا رہا ہے اللہ! تری محبت کا فیض آ رہا ہے ذکرِ الٰہیہ سے ، جاری ہیں سب لطائف اب نفس کا پجاری بھی لطف پا رہا ہے وہ قفل کھل چکا ہے، برسوں سے جو لگا تھا اب زنگ دھل گیا تو، دل جگمگا رہا ہے آئینہ ساز!

سینے میں دل دھڑادھڑ دھڑکے ہی جا رہا ہے Read More »

یہ تو انجانے میں عادت سی بنا لی میں نے

یہ تو انجانے میں عادت سی بنا لی میں نے بات کہنی تھی جو شعروں میں سنا لی میں نے میرے اشعار کی گرمی، مرے لہجے کا اثر بزم کی بزم ہی ہمدرد بنا لی میں نے کوئی آئے کہ نہ آئے نہیں پڑتا کچھ فرق بس کسی شخص کی عادت نہیں ڈالی میں نے

یہ تو انجانے میں عادت سی بنا لی میں نے Read More »

کچھ التفات تو نے زیادہ تو کر لیا

کچھ التفات تو نے زیادہ تو کر لیا پر اپنے دل کو تو نے کشادہ تو کر لیا دل کی سیاہیاں بھی چھپا لو تو مان لوں اجلا سا زیبِ تن یہ لبادہ تو کر لیا مٹ جائیں کاش اس سے ترے دل سے رنجشیں تحریر میں نے نامۂ سادہ تو کر لیا مشکل ہے

کچھ التفات تو نے زیادہ تو کر لیا Read More »