میں آس بَوتا ہوں، اُس کو شَجر بناتا ہوں
میں روز ذہن کے زِنداں میں ، دَر بناتا ہوں
تِرے خیال کی وُسعَت ہے ، آسمانوں سی
اُڑان بَھرنے کو میں اپنے پَر بناتا ہوں
یہ رَتجگے ہیں مُقدّر ، یہ تَشنگی ہے نصیب
میں کوٸی کوزہ نہیں ، کوزہ گر بناتا ہوں
سَفر میں رہتا ہوں دَریا ہو ، دَشت ہو کہ نگر
ملے جو پیار کا سایہ ، تو گھر بناتا ہوں
میں کینوس پہ بناتا ہوں ایک چہرہ ِ خاص
پھر اُس کی آنکھیں بہت سوچ کر بناتا ہوں
تُجھے خبر ہی کہاں ہے ، اٙو بےخبر میرے
میں سو جٙتن سے تجھے اِک خبر بناتا ہوں
لے تھام ہاتھ مِرا ، چل دے جس طرف چاہے
میں دل سے آج تجھے ، راہ بَر بناتا ہوں
غٙزل میں ڈَھال کے رُوداد ِ رَوز و شَب میں ، عظیم
یہ کار گاہ ِ سُخن ، کار گر بناتا ہوں
یونس عظیم