MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں آس بَوتا ہوں، اُس کو شَجر بناتا ہوں

  میں آس بَوتا ہوں، اُس کو شَجر بناتا ہوں
  میں روز ذہن کے زِنداں میں ، دَر بناتا ہوں

  تِرے خیال کی وُسعَت ہے ، آسمانوں سی
 اُڑان بَھرنے کو میں اپنے پَر بناتا ہوں

  یہ رَتجگے ہیں مُقدّر ، یہ تَشنگی ہے نصیب
  میں کوٸی کوزہ نہیں ، کوزہ گر بناتا ہوں

  سَفر میں رہتا ہوں دَریا ہو ، دَشت ہو کہ نگر
  ملے جو پیار کا سایہ ، تو گھر بناتا ہوں

  میں کینوس پہ بناتا ہوں ایک چہرہ ِ خاص
  پھر اُس کی آنکھیں بہت  سوچ کر  بناتا ہوں

  تُجھے خبر ہی کہاں ہے ، اٙو  بےخبر  میرے
  میں سو جٙتن سے تجھے اِک خبر بناتا ہوں

  لے تھام ہاتھ  مِرا ، چل دے جس طرف  چاہے
  میں دل سے آج تجھے ،  راہ بَر  بناتا  ہوں

غٙزل میں ڈَھال کے رُوداد ِ رَوز و شَب میں ، عظیم
  یہ  کار گاہ  ِ  سُخن  ،  کار  گر  بناتا  ہوں

یونس عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم