MOJ E SUKHAN

کچھ التفات تو نے زیادہ تو کر لیا

کچھ التفات تو نے زیادہ تو کر لیا
پر اپنے دل کو تو نے کشادہ تو کر لیا

دل کی سیاہیاں بھی چھپا لو تو مان لوں
اجلا سا زیبِ تن یہ لبادہ تو کر لیا

مٹ جائیں کاش اس سے ترے دل سے رنجشیں
تحریر میں نے نامۂ سادہ تو کر لیا

مشکل ہے زندگی کا سفر دوست کے بنا
تنہا جیو گے کیسے، ارادہ تو کر لیا

تکرار تجھ کو اور مجھے بھی نہیں پسند
پر دل کا حال کہہ کے اعادہ تو کر لیا

ہیں دوستوں کے بھیس میں دشمن بھی دھیان کر
رہنے کا ایک ساتھ ارادہ تو کر لیا

اس کو نبھاوں گی میں مجھے یہ یقیں نہیں
ملنے کا تجھ سے میں نے بھی وعدہ تو کر لیا

صد شکر آج میری عیادت کے واسطے
آنے کا شمسؔہ اس نے ارادہ تو کر لیا

شمسہ نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم