MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے

میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑےجتنے بھی لڑاکا لڑکے ہیں ان سب کو نیک بناؤں گا جوبچھڑے ہوئے ہمجولی ہیں ان سب کو ایک بناؤں گاسب آپس میں مل جائیں گے جو رہتے ہیں اب لڑے لڑے میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑےیہ علم

میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے Read More »

بالاہتمام ظلم کی تجدید کی گئی

بالاہتمام ظلم کی تجدید کی گئیاور ہم کو صبر و ضبط کی تاکید کی گئی اول تو بولنے کی اجازت نہ تھی ہمیںاور ہم نے کچھ کہا بھی تو تردید کی گئی انجام کار بات شکایات پر رکیپرسش اگرچہ از رہ تمہید کی گئی تجدید التفات کی تجویز رد ہوئیترک تعلقات کی تائید کی گئی

بالاہتمام ظلم کی تجدید کی گئی Read More »

  ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

  ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیںوہ خوش نصیب ہیں جو تری رہ گزر میں ہیں تاکید ضبط عہد وفا اذن زندگیکتنے پیام اک نگہ مختصر میں ہیں ماضی شریک حال ہے کوشش کے باوجوددھندلے سے کچھ نقوش ابھی تک نظر میں ہیں للہ اس خلوص سے پرسش نہ کیجیئےطوفان کب سے بند

  ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں Read More »

ھم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے

ھم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتےاب ٹھہر جائیں کہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے اب غم زیست سے گھبرا کے کہاں جائیں گےعمر گزری ہے اسی آگ میں جلتے جلتے رات کے بعد سحر ہوگی مگر کس کے لئےہم ہی شاید نہ رہیں رات کے ڈھلتے ڈھلتے روشنی کم تھی مگر اتنا اندھیرا تو

ھم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے Read More »

جس انجمن میں دیکھو بیگانے رہ گئے ہیں

جس انجمن میں دیکھو بیگانے رہ گئے ہیںگنتی کے لوگ جانے پہچانے رہ گئے ہیں کل جن حقیقتوں سے ماحول معتبر تھاآج ان حقیقتوں کے افسانے رہ گئے ہیں اب غارت چمن میں کیا رہ گیا ہے باقیکچھ پیرہن دریدہ دیوانے رہ گئے ہیں تاریخ عہد رفتہ بالاختصار یہ ہےگلشن جہاں جہاں تھے ویرانے رہ

جس انجمن میں دیکھو بیگانے رہ گئے ہیں Read More »

نعت میں کیسےکہوں ان (ص) کی رضا سےپہلے

نعت میں کیسےکہوں ان (ص) کی رضا سےپہلےمیرےماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیںجلوئہ صاحب لو لاک لما سے پہلے اُن (ص) کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحربھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سےپہلے اب یہ عالم ہے کہ دامن کا سنبھلنا

نعت میں کیسےکہوں ان (ص) کی رضا سےپہلے Read More »

جہاں روضئہ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے

جہاں روضئہ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہےکہاں میں کہاں یہ مدینےکی گلیاں یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے محمد ( ص)کـی عظمت کو کیا پوچھتےہو کہ وہ صاحب قاب قوسین ٹھہرےبشر کی سرِ عرش مہماں نوازی ، یہ عظمت نہیں ہے تو پھر اور

جہاں روضئہ پاک خیر الوریٰ ہے وہ جنت نہیں ہے، تو پھر اور کیا ہے Read More »

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ​

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ​جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ​ ​چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ​نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ​ ​کسی کےہاتھ نےمجھ کو سہارا دے دیا ورنہ​کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ​ ​غلامان محمد دور سے پہچانے جاتے ہیں​دل گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ​ Read More »

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوںمیں محفل حرم کے آداب جانتا ہوں​ ​جو ہیں خدا کے پیارے میں ان کو چاہتا ہوں​اُن کو اگر نہ چاہوں تو اور کس کو چاہوں​ ​ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا​دیکھےبغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں​ ​کوئی تو آنکھ والا گزرےگا اس طرف سے​طیبہ کےراستےمیں

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں Read More »

اب بھی آزاد فضاؤں کا نہ امکاں نکلا

اب بھی آزاد فضاؤں کا نہ امکاں نکلاباب گلشن جسے سمجھے در زنداں نکلا اتنا نزدیک مرے تو بھی کبھی آ نہ سکاجتنا نزدیک مرے یہ غم دوراں نکلا ان کی محفل سے میں لے آیا تمنا ان کیلوگ سمجھے تھے کہ میں بے سر و ساماں نکلا رک کے اک اشک نے کیا کیا

اب بھی آزاد فضاؤں کا نہ امکاں نکلا Read More »