MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب بھی آزاد فضاؤں کا نہ امکاں نکلا

اب بھی آزاد فضاؤں کا نہ امکاں نکلا
باب گلشن جسے سمجھے در زنداں نکلا

اتنا نزدیک مرے تو بھی کبھی آ نہ سکا
جتنا نزدیک مرے یہ غم دوراں نکلا

ان کی محفل سے میں لے آیا تمنا ان کی
لوگ سمجھے تھے کہ میں بے سر و ساماں نکلا

رک کے اک اشک نے کیا کیا نہ جلایا ہم کو
دل کا سورج بھی چراغ تہ داماں نکلا

ہم نے دیکھا تو کوئی عشق کا طالب ہی نہ تھا
ہم نے پوچھا تو ہر اک صاحب ایماں نکلا

جب بھی معلوم کیا اپنی تباہی کا سبب
اپنے ہاتھوں میں خود اپنا ہی گریباں نکلا

خود نمائی بھی عجب ظلم ہے نوریؔ مجھ پر
ہائے وہ وقت کہ میں خود سے گریزاں نکلا

کرار نوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم