MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیادل میں جاگے ہوئے فن کار نے سونے نہ دیا ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ مرے ساتھ گئیزیر سایہ کسی دیوار نے سونے نہ دیا ایک معصوم سی صورت کو کہیں دیکھا تھاپھر بھی چشمان گنہ گار نے سونے نہ دیا میرے ہم سایے میں شاید

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا Read More »

فکر و اظہار میں خود آنے لگی یا مردی

فکر و اظہار میں خود آنے لگی یا مردیبھوک کی آگ نے لہجے میں تمازت بھر دی کچھ تو ہے زیست جو وقف مے و ساغر کر دیورنہ کس کو ہے پسند اپنے لیے بیدردی عشق آوارہ و بدنام نے عزت رکھ لیہم سے بے گھر بھی کیا کرتے ہیں کوچہ گردی بات تو جب

فکر و اظہار میں خود آنے لگی یا مردی Read More »

خود اپنے گھر میں ہیں اس طرح آج آئے ہوئے

خود اپنے گھر میں ہیں اس طرح آج آئے ہوئےکہ جیسے گھر میں کسی کے ہوں ہم بلائے ہوئے کہ جیسے اب کوئی خورشید آ ہی جائے گاہیں اپنے گھر کے اندھیروں سے لو لگائے ہوئے خدا کرے در و دیوار کان رکھتے ہوںزمانہ گزرا ہے روداد غم سنائے ہوئے ان آندھیوں میں نہ جانے

خود اپنے گھر میں ہیں اس طرح آج آئے ہوئے Read More »

مانا کہ ہم اس دور کا حاصل تو نہیں تھے

مانا کہ ہم اس دور کا حاصل تو نہیں تھےناقدریٔ دنیا کے بھی قابل تو نہیں تھے آتا تو سہی باد سحر کا کوئی جھونکاہم خاص کسی پھول پہ مائل تو نہیں تھے ہر شخص نے نقش کف پا ہم کو بنایاہر شخص کی ہم راہ میں حائل تو نہیں تھے دو گھونٹ ہی پی

مانا کہ ہم اس دور کا حاصل تو نہیں تھے Read More »

ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوا

ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوایہ حرف بے وجود مگر داستاں ہوا جو کچھ میں کہہ چکا ہوں ذرا اس پہ غور کرجو کچھ بیاں ہوا ہے بہ مشکل بیاں ہوا اب تم کو جس خلوص کی ہم سے امید ہےمدت ہوئی وہ نذر دل دوستاں ہوا طوفان زندگی میں ضرورت تھی

ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوا Read More »

روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھی

روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھیاپنے بھی دل کو ذرا آج ٹٹولیں ہم بھی نام لے کر کبھی ہم کو بھی پکارے کوئیاپنا دروازہ کسی روز تو کھولیں ہم بھی لفظ و معنی بھی ابھرنے لگے سناٹے سےدر و دیوار جو بولے ہیں تو بولیں ہم بھی جی میں آتا ہے

روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھی Read More »

شہر میں تنہا تھا لیکن کرب تنہائی نہ تھا

شہر میں تنہا تھا لیکن کرب تنہائی نہ تھاگھر سے باہر رہ کے میں اتنا تو سودائی نہ تھا خود بخود ہی دوست بن کر بنتے ہیں دشمن یہ لوگورنہ از خود تو مجھے ذوق شناسائی نہ تھا تیری نظروں نے نہ جانے کتنی عزت بخش دیمجھ کو پہلے تو کبھی بھی خوف رسوائی نہ

شہر میں تنہا تھا لیکن کرب تنہائی نہ تھا Read More »

تری ہی طرح ہمیں یاد آنے والا ہو

تری ہی طرح ہمیں یاد آنے والا ہوترے سوا بھی کوئی تو ستانے والا ہو ہر ایک صبح یہی دل میں ہوک اٹھتی ہےہمیں بھی ناز سے کوئی جگانے والا ہو وہ کس امید پہ گھر میں رہے کہ جس گھر میںنہ آنے والا ہو کوئی نہ جانے والا ہو ہر اک سے نظریں ملائی

تری ہی طرح ہمیں یاد آنے والا ہو Read More »

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئےشاید سحر سے پہلے ہی بیدار ہو گئے یہ کون سا مقام رہ و رسم ہے کہ وہاتنے ہوئے قریب کہ بیزار ہو گئے منزل کی سمت تجھ کو نہ لے جائیں گے کبھیوہ راستے جو آپ ہی ہموار ہو گئے ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیااتنے ہوئے

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے Read More »

جب نظر کے سامنے روضہ کا منظر آئے گا

جب نظر کے سامنے روضہ کا منظر آئے گاخود بخود میری زبان پر ذکر سرور آئے گا دیکھنا ہے سایۂ احمد تو دیکھو عرش پرآسماں کا سایہ آخر کیوں زمیں پر آئے گا مجھ کو نسبت ہے محمد سے ، نہیں دنیا کا خوفمجھ سے ٹکرائی تو گردش کو بھی چکر آئے گا تیرگی کو

جب نظر کے سامنے روضہ کا منظر آئے گا Read More »