MOJ E SUKHAN

روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھی

روکے کچھ دیر غبار آنکھ کا دھو لیں ہم بھی
اپنے بھی دل کو ذرا آج ٹٹولیں ہم بھی

نام لے کر کبھی ہم کو بھی پکارے کوئی
اپنا دروازہ کسی روز تو کھولیں ہم بھی

لفظ و معنی بھی ابھرنے لگے سناٹے سے
در و دیوار جو بولے ہیں تو بولیں ہم بھی

جی میں آتا ہے کبھی ان کا تصور لے کر
کوئی جاتا ہو کہیں ساتھ میں ہولیں ہم بھی

ہو اجازت تو ترے ہجر کی تسبیح میں دل
جو دھڑکتا ہے اسے آج پرو لیں ہم بھی

کرار نوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم