MOJ E SUKHAN

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے
شاید سحر سے پہلے ہی بیدار ہو گئے

یہ کون سا مقام رہ و رسم ہے کہ وہ
اتنے ہوئے قریب کہ بیزار ہو گئے

منزل کی سمت تجھ کو نہ لے جائیں گے کبھی
وہ راستے جو آپ ہی ہموار ہو گئے

ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

اب کے تو نوک خار بھی گل رنگ ہو چلی
کل دیکھنا کہ دشت بھی گلزار ہو گئے

نوریؔ ہمیں جہاں میں مسرت کی تھی تلاش
آخر ہر ایک شخص کے غم خوار ہو گئے

کرار نوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم