MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چل دوانے تلاش کرتے ہیں

چل دوانے تلاش کرتے ہیںکچھ خزانے تلاش کرتے ہیں ہم ترے پاس بیٹھ رہنے کوسو بہانے تلاش کرتے ہیں کٹ گٸے پیڑ اور یہ پنچھیآشیانے تلاش کرتے ہیں وہ نٸے دوست ڈھونڈتا ہے اورہم پرانے تلاش کرتے ہیں شہر میں تیرے گاٶں کے مزدورکارخانے تلاش کرتے ہیں عرفان اللہ عرفان

چل دوانے تلاش کرتے ہیں Read More »

خفا کریں یا اسے منائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے

خفا کریں یا اسے منائیں ہمارا اس کا معاملہ ہےزمانے والوں کو کیا بتائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے بھلا ہو ہم نے کسے پکارا بھلا ہو اس نے کسے بلایایہ لوگ کیسے ہیں دائیں بائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے جہاں پہ ہم ہیں جہاں پہ وہ ہے وہاں کوئی دوسرا نہیں ہےکسی کا

خفا کریں یا اسے منائیں ہمارا اس کا معاملہ ہے Read More »

ذرا سی دیر کو پہلو جو تو بدلتا ہے

ذرا سی دیر کو پہلو جو تو بدلتا ہےمرے وجود میں راہیں لہو بدلتا ہے خوشی سے نقل مکانی کوٸی نہیں کرتاستاٸے جانے سے ہی کوٸی جُو بدلتا ہے ہم ایسے لوگوں کا قبلہ نہیں بدلتا میاںوضو جو ٹوٹ بھی جاٸے وضو بدلتا ہے اسے پہن کے چمن میں بہار آتی ہےجو پیرہن مرا ذوقٍ

ذرا سی دیر کو پہلو جو تو بدلتا ہے Read More »

انجام کارٍ عشق کا جانے بغیر میں

انجام کارٍ عشق کا جانے بغیر میںچھت پر اتر گیا تری دانے بغیر میں لوٹ آیا ہوں کہ تو نے اشارہ کیا مجھےصحرا کی ساری خاک کو چھانے بغیر میں تیرے بغیر رہنا نہیں مجھ کو ایک پلجیون گذار لوں گا زمانے بغير میں منہ پھیر کر تمہیں تو بہت نیند آ گٸیلمحے کو سو

انجام کارٍ عشق کا جانے بغیر میں Read More »

اپنی کم ہوتی بصارت کو مَیں روکوں کیسے

اپنی کم ہوتی بصارت کو مَیں روکوں کیسےاس مقدر کی شرارت کو مَیں روکوں کیسے گئے وقتوں میں پلٹ جانے کی خواہش ہے شدیدشوقِ بے حد کی اشارت کو مَیں روکوں کیسے وقت کے ساتھ جو بڑھتا ہی چلا جاتا ہےاپنے اس ذوقِ نظارت کو مَیں روکوں کیسے حملہ زن ہونے کو ہیں جو مرے

اپنی کم ہوتی بصارت کو مَیں روکوں کیسے Read More »

محدود اپنی سوچ ہے جس جانِ جان تک

محدود اپنی سوچ ہے جس جانِ جان تکمَیں اُس کو پا سکوں گا , نہیں یہ گمان تک طے کس طرح کروں گا مَیں تنہا مسافتیںلُٹتے ہیں اب رَہوں میں یہاں کاروان تک کارِ گناہ و جرم رُکے گا وہ کس طرحمشغول جس میں پائے گئے حُکمران تک حیران تھا , بنایا تھا جس نے

محدود اپنی سوچ ہے جس جانِ جان تک Read More »

اِک حرفِ مسترد تھا , مَیں نے جو کل کہا تھا

اِک حرفِ مسترد تھا , مَیں نے جو کل کہا تھاہاں نادرست ٹھہرا , مَیں نے جو کل کہا تھا یہ سوچ آج مجھ کو شرمندہ کر رہی ہےناحق تھا اور بے جا , مَیں نے جو کل کہا تھا اِس اعتراف میں ہے اب عار کیسی یاروبالکل نہیں تھا اچّھا , مَیں نے جو

اِک حرفِ مسترد تھا , مَیں نے جو کل کہا تھا Read More »

آپ مجھ سے بدگماں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

آپ مجھ سے بدگماں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرحدوسروں پہ مہرباں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح راست بازوں کی حمایت کیوں نہیں کرتے ہیں آپکج روؤں کے ہم زباں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح آشنائے منزلِ دِل سے یہ دُوری کس لیےہم جلیسِ گُم رَہاں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح جب طلب دل کو مرے

آپ مجھ سے بدگماں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح Read More »

سب چھوڑ چھاڑ کر مَیں بہت پُرسکون ہوں

سب چھوڑ چھاڑ کر مَیں بہت پُرسکون ہوںدامن کو جھاڑ کر مَیں بہت پُرسکون ہوں پہنچائی ہے کسی نے غلط یہ خبر تجھےتجھ سے بگاڑ کر مَیں بہت پُرسکون ہوں اپنی انا بھی مجھ سے نہ برداشت ہو سکیخود کو لتاڑ کر مَیں بہت پُرسکون ہوں اک واہمہ تھا میرا , مقابل نہ تھا کوئیجس

سب چھوڑ چھاڑ کر مَیں بہت پُرسکون ہوں Read More »

اَے ساکنِ کُوفہ تری پیماں شکنی بھی

سلام اَے ساکنِ کُوفہ تری پیماں شکنی بھیدَرپیش ہے سیّد کو غریب الوطنی بھی شِکوہ نہ کیا اُمّتِ بے مِہر کا شَہ نےچادر غم و افسوس کی گو سَر پہ تَنی بھی چرچا نہ ہو کیوں شِمر کا بازارِ ستم میںخُوں رَنگ ہے تلوار بھی نیزے کی اَنی بھی افسوس صَد افسوس کہ اَے سیّدہ

اَے ساکنِ کُوفہ تری پیماں شکنی بھی Read More »