جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوں
جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوںمیں دل کے آئنہ خانے میں وحشت چھوڑ آیا ہوں گرا ہوں عرش سے میں فرش کی گہرائیاں لے کرحقیقت جان لی ہے دستِ قدرت چھوڑ آیا ہوں چراغِ منبر و محراب کو جلتا ہی رکھا ہےمیں نسلِ نو کی آئیندہ ضرورت چھوڑ آیا ہوں محبت
جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوں Read More »