MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوں

جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوںمیں دل کے آئنہ خانے میں وحشت چھوڑ آیا ہوں گرا ہوں عرش سے میں فرش کی گہرائیاں لے کرحقیقت جان لی ہے دستِ قدرت چھوڑ آیا ہوں چراغِ منبر و محراب کو جلتا ہی رکھا ہےمیں نسلِ نو کی آئیندہ ضرورت چھوڑ آیا ہوں محبت

جنوں کی دل لگی کو اپنی صورت چھوڑ آیا ہوں Read More »

ذرا جبیں سے کرو قط سرِ کفن میرا

ذرا جبیں سے کرو قط سرِ کفن میراؔکہیں وہ دیکھنے آئے نہ بانکپن میرا اس ایک برق نظر کا شرار تھا میراتمام عمر سلگتا رہا بدن میرا یہ آئینہ تو مجھے کرچیاں بنا دے گاجو مجھ پہ کرنے لگا ہے عیاں چلن میرا مرے وجود سے ہو تیرے ذوق کی تسکینترے قیام سے سجتا رہے

ذرا جبیں سے کرو قط سرِ کفن میرا Read More »

یہ روایت یہاں کردار کی رکھی جائے

یہ روایت یہاں کردار کی رکھی جائےسر سے تزئین، سرِ دار کی رکھی جائے کربلا کچھ بھی نہیں عصر سے کہتے ہیں حسینؑکوئی مشکل میرے معیار کی رکھی جائے دیں محمد کا بچانا ہو تو مانندِ حسینؑمرتبت حیدرِ کرّار سے رکھی جائے جب کہ سب کہتے ہیں اس وقت ہمارا ہے حسینؑدل میں الفت اُسی

یہ روایت یہاں کردار کی رکھی جائے Read More »

محبتوں سے حرارت فضائیں لیتی ہیں

محبتوں سے حرارت فضائیں لیتی ہیںسخی حسینؑ سے خوشبو ہوائیں لیتی ہیں ہوا ہے جب سے تیری اوٹ سے طلوع اسلامادب سے نام تیرا کر بلائیں لیتی ہیں میرے حسینؑ تیرے ساتھ جو بھی ہو گذرازمینیں شرم سے منہ پر ردائیں لیتی ہیں حسینؑ پھرتے ہیں اصغرؑ شہید کو لے کرمقامِ صبر، تجھے انتہائیں لیتی

محبتوں سے حرارت فضائیں لیتی ہیں Read More »

شبیرؑ ترے صبر کو ہم کیسے بھلائیں

شبیرؑ ترے صبر کو ہم کیسے بھلائیںاندر سے نکل پڑتی ہیں ماتم کی صدائیں اک بوند بھی پانی کی اُٹھا کر نہیں لائیںتھیں کس کے تعاقب میں وہاں تیز ہوائیں شبیرؑ کھلے آپ پہ اسرارِ حقیقتکب لوگ سرِ دار یوں عرفان کو پائیں اسلام کو کی زیست عطا جان کے بدلےدیتی ہیں جبیں آج بھی

شبیرؑ ترے صبر کو ہم کیسے بھلائیں Read More »

نہیں ہے شام تو ظلمت بلا کے شام کرو

نہیں ہے شام تو ظلمت بلا کے شام کرونبی کی آل کا اتنا تو احترام کرو سجا کے نیزے کو، اک سر یہ کہتا پھرتا ہے‘‘حسینؑ ہوں‘‘ مجھے اب کافرو سلام کرو بتا گئے ہمیں وہ راستہ ہدایت کاکہ ظلمتوں میں شہادت کا اہتمام کرو حضور فرطِ مسرت سے دیں جواب اس کادرودِ پاک کو،

نہیں ہے شام تو ظلمت بلا کے شام کرو Read More »

مولانا اسماعیل میرٹھی نوخیز نسلوں کا معمار

اسماعیل میرٹھی نے 73 سال کی عمر میں یکم نومبر 1917ء کو میرٹھ میں وفات پائی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر شاداب علیم اسماعیل میرٹھی 12 نومبر 1844ء کو ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بچوں کے لیے اردو میں بہت سی درسی کتابیں تحریر کیں۔ ان درسی کتب کے زیادہ تر مضامین، نظمیں، حکایات

مولانا اسماعیل میرٹھی نوخیز نسلوں کا معمار Read More »

باتوں میں اگرچہ نہیں تنظیم زیادہ

باتوں میں اگرچہ نہیں تنظیم زیادہمیں کہہ کہ نہیں کرتا ہوں ترمیم زیادہ وہ یوں کہ ترے نام میں یہ آیا ہے دو بارحرفوں میں پسند آیا مجھے میم زیادہ ملتا ہے مجھے فیض جو درگاہٍ ادب سےیاروں میں ہی کر دیتا ہوں تقسیم زیادہ میں اپنی کہی بات سے واقف تو ہوں لیکناز بر

باتوں میں اگرچہ نہیں تنظیم زیادہ Read More »

خوب جچتے ہوٸے الفاظ معانی کی طرح

خوب جچتے ہوٸے الفاظ معانی کی طرحپہلا مصرعہ ہو کوٸی مصرعہٍ ثانی کی طرح وہ ہے چڑھتے ہوٸے دریا کی روانی کی طرحاور میں جھیل کے ٹھہرے ہوٸے پانی کی طرح آپ کے ساتھ نبھانے سے یہ ممکن ہو گاہم بڑھاپا بھی گذاریں گے جوانی کی طرح ایک اندیشہ مرے دل میں بچھڑ جانے کاچھپ

خوب جچتے ہوٸے الفاظ معانی کی طرح Read More »

بیٹھے بیٹھے اب جہاں کی سیر کر آتے ہیں لوگ

بیٹھے بیٹھے اب جہاں کی سیر کر آتے ہیں لوگکیسی کیسی آجکل افواہیں پھیلاتے ہیں لوگ کھول دو کھڑکی میاں تازہ ہوا کی خیر ہوسانس رکتی ہے ہوا رکنے سے گھبراتے ہیں لوگ آخرت میں اے خدا ان کو سہولت چاہٸےزندگی بھر جو غریبی کی سزا پاتے ہیں لوگ کون تھا وہ کون تھا اللہ

بیٹھے بیٹھے اب جہاں کی سیر کر آتے ہیں لوگ Read More »