MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہاسہ

لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہاجو لکھ نہ پایا کوئی میں وہ بات لکھتا رہا سمجھ نہ پایا تو پھر زندگی کو کاغذ پرثبات لکھتا رہا بے ثبات لکھتا رہا مجھے تھا علم کہ کٹ جائیں گے یہ ہاتھ مرےہمیشہ دن کو دن اور شب کو رات لکھتا رہا پلٹ کے آنا بھی جانے

لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہاسہ Read More »

چشمِ طلب خمار سے آگے نکل گئی

چشمِ طلب خمار سے آگے نکل گئییعنی مرے حصار سے آگے نکل گئی جو حال ہے مرا مری آنکھوں میں دیکھ لواب بے کلی قرار سے آگے نکل گئی احساس وقت کا بھی کسی کو نہیں رہاتقریر اختصار سے آگے نکل گئی اب ھاتھ مل رہے ہو سرِ راہ کس لیےپاگل ہوا غبار سے آگے

چشمِ طلب خمار سے آگے نکل گئی Read More »

یہ شیشہ سچ پہ آمادہ نہیں ہے

یہ شیشہ سچ پہ آمادہ نہیں ہےجو دکھتا ہے مرا چہرہ نہیں ہے یہ راہِ عشق ہے چلنا سنبھل کےیہاں سیدھا کوئی رستہ نہیں ہے بساطِ عشق پر کیا چال چلتاکہ خالی کوئی بھی خانہ نہیں ہے یہ صحرا میں سرابوں کا سفر ہےنظر آتا ہے جو دریا نیہں ہے یہ کیسی شام اتری ہے

یہ شیشہ سچ پہ آمادہ نہیں ہے Read More »

جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہوتے ہیں

جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہوتے ہیںزندگی کرنے کے اسباب نہیں ہوتے ہیں واسطہ رہتا ہے دشمن سے ہمیشہ اپنااپنے اطراف میں احباب نہیں ہوتے ہیں اب تکلف کی حدوں سے ذرا باہر نکلودوستوں میں کوئی آداب نہیں ہوتے ہیں ہم سے پوچھو کہ سمندر کی روانی کیا ہےہم جہاں ہیں وہاں تالاب

جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہوتے ہیں Read More »

ساز ہو جیسے کوئی مضراب کی تحویل میں

ساز ہو جیسے کوئی مضراب کی تحویل میںلفظ رہتے ہیں سدا اعراب کی تحویل میں اور کیا اِس سے بھلا اُمید رکھے گا کوئیخواب ہی دیکھے گا جو ہے خواب کی تحویل میں تشنہ لب پہنچے تھے تشنہ لب ہی واپس آئے ہیںصرف مٹی ہی ملی مہتاب کی تحویل میں وہ بھلا سمجھے گا کیا

ساز ہو جیسے کوئی مضراب کی تحویل میں Read More »

سر پہ بھیلا آسماں تھا اور میں

سر پہ بھیلا آسماں تھا اور میںڈگمگانے کا سماں تھا اور میں بے بسی سے دیکھتا تھا ہر طرفوہ کہ مجھ سے بد گماں تھا اور میں ہو رہی تھیں پتھروں کی بارشیںایک شیشے کا مکاں تھا اور میں ہر گھڑی لڑنا پڑا تھا موت سےہر گھڑی اک امتحاں تھا اور میں عافیت سر کو

سر پہ بھیلا آسماں تھا اور میں Read More »

صلیب و دار کا موسم ابھی نہیں آیا

صلیب و دار کا موسم ابھی نہیں آیا ہماری ہار کا موسم ابھی نہیں آیا ابھی تو محوِ خزاں ہیں تمہارے دیوانےادھر بہار کا موسم ابھی نہیں آیا ابھی تو کھیت میں سرسوں کے رنگ پھیکے ہیںیہاں کہار کا موسم ابھی نہیں آیا تو کیا فضا میں رہیں گے یہ طایرانِ چمنتو کیا شکار کا

صلیب و دار کا موسم ابھی نہیں آیا Read More »

چلو کہ ایک خواب سے سخن کی ابتدا کریں

چلو کہ ایک خواب سے سخن کی ابتدا کریںالم جو ہے لکھا کریں ، جو خوف ہے کہا کریں یہ لوگ ہو گئے ہیں اب اذیتوں سے آشنابلا سے آسماں گرے کہ بجلیاں گرا کریں بکھر گئے تو سوچ لو یہ وقت پھر نہ آئے گایہ فیصلے کی ہے گھڑی سو مل کے فیصلہ کریں

چلو کہ ایک خواب سے سخن کی ابتدا کریں Read More »

کوئی ٹکرا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہے

کوئی ٹکرا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہےمیری تعمیر میں پتھر بھی تو ہو سکتا ہے کیوں نہ اے شخص تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوںتو مرے وہم سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھر اب جملہ جمال دنیاتیرا شک اور کسی پر بھی تو ہو سکتا

کوئی ٹکرا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہے Read More »

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتاجانے والے ترا جانا نہیں دیکھا جاتا تیری مرضی ہے جدھر انگلی پکڑ کر لے جامجھ سے اب تیرے علاوہ نہیں دیکھا جاتا یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داریدرمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرےبار بار ایک ہی

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا Read More »