لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہاسہ
لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہاجو لکھ نہ پایا کوئی میں وہ بات لکھتا رہا سمجھ نہ پایا تو پھر زندگی کو کاغذ پرثبات لکھتا رہا بے ثبات لکھتا رہا مجھے تھا علم کہ کٹ جائیں گے یہ ہاتھ مرےہمیشہ دن کو دن اور شب کو رات لکھتا رہا پلٹ کے آنا بھی جانے
لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہاسہ Read More »