MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا
جانے والے ترا جانا نہیں دیکھا جاتا

تیری مرضی ہے جدھر انگلی پکڑ کر لے جا
مجھ سے اب تیرے علاوہ نہیں دیکھا جاتا

یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داری
درمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا

تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے
بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

یہ ترے چاہنے والے بھی عجب ہیں جاناں
عشق کرتے ہیں کہ ہوتا نہیں دیکھا جاتا

یہ تیرے بعد کھلا ہے کہ جدائی کیا ہے
مجھ سے اب کوئی اکیلا نہیں دیکھا جاتا

عباس تابش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم