رخ
نظم وہ پیڑ جس کی تمام شاخیں جھلس گئیں تھیںوہ تپتے سورج کی دھوپ چھونے سے جل چکی تھیںسمجھ رہا تھا کے اب نہ پھوٹے گی کوئی کونپلبہار اس پر کبھی نہ آئے گی سوچتا تھاقہار جیسی تھی دھوپ اس پر ستم تھا یہ بھیپچاس سے بھی حرارتوں کا تھا درجہ اوپرتو دن بھی کیا