MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

رخ

نظم وہ پیڑ جس کی تمام شاخیں جھلس گئیں تھیںوہ تپتے سورج کی دھوپ چھونے سے جل چکی تھیںسمجھ رہا تھا کے اب نہ پھوٹے گی کوئی کونپلبہار اس پر کبھی نہ آئے گی سوچتا تھاقہار جیسی تھی دھوپ اس پر ستم تھا یہ بھیپچاس سے بھی حرارتوں کا تھا درجہ اوپرتو دن بھی کیا

رخ Read More »

جاگتی آنکھوں کے خواب

نظم کیا میں اپنی نیند سے بیدار ہوںیا میں خوابیدہ ہوں اپنے خواب میںپہلے بھی تو ہو چکا ہے با رہاکھائے دھوکے میں نے کتنے خواب میںجب نہیں ہے روشنی کی سمت ہیکس طرف کو چل رہے ہو کیا پتاتیرگی کی وسعتیں ہیں لا مکاںاور میں اس میں ہوں گویا بے نشاںجو کرے روشن وہ

جاگتی آنکھوں کے خواب Read More »

معلوم ہمیں خیریت اغیار سے کیوں ہو

غزل معلوم ہمیں خیریت اغیار سے کیوں ہوایسے ہی مراسم ہیں تو پھر یار سے کیوں ہو اب باندھو کمر چھو لو فلک کر کے دکھا دوہاتھوں پہ دھرے ہاتھ یہ بے کار سے کیوں ہو ہے کیسی یہ گفتار ہے یہ کیسی محبتاقرار بھی کرنا ہے تو انکار سے کیوں ہو بدلے ہیں اگر

معلوم ہمیں خیریت اغیار سے کیوں ہو Read More »

الجھنیں کروٹیں بدلتی ہیں

غزل الجھنیں کروٹیں بدلتی ہیںسل وٹیں جب کسی کو ڈستی ہیں جب تماشا ہو رات بھر برپاالجھی ڈوریں کہاں سلج ھتی ہیں جل گئے جو وفا پہ کامل تھےرات بھر شمعیں کیوں تھرکتی ہیں ڈوبا سورج تو یہ ہوا معلومکیسے کرنیں یہاں پلٹتی ہیں میرے اندر بھی میں ہی ہوں تب ہیمجھ پہ خوشیاں جو

الجھنیں کروٹیں بدلتی ہیں Read More »

یہ تیرگی کو مٹا ؤ بہت اندھیرا ہے

غزل یہ تیرگی کو مٹاؤ بہت اندھیرا ہےچراغِ فکر جلا ؤ بہت اندھیرا ہے جنونِ دین ہو یا اس کی ہو کوئی بھی ضدجنون تھوڑا گھٹاؤ بہت اندھیرا ہے ہزاروں سالوں کا ہے ارتقا یہ عقل و شعورسو حرفِ جنگ مٹاؤ بہت اندھیرا ہے ہیں شہرِ دل میں ہر اک سمت وحشتیں رقصاںمحبتوں کو جگاؤ

یہ تیرگی کو مٹا ؤ بہت اندھیرا ہے Read More »

عہدِ رفتہ سے پریشان یوں جانی کیوں ہو

غزل عہدِ رفتہ سے پریشان یوں جانی کیوں ہوایسے گم گشتہ زمانے کی کہانی کیوں ہو جب تعلق ہی نہیں پیار سے کچھ باقی رہاپھر مجھے یاد بتاؤ تو زبانی کیوں ہو سلسلہ ہائے وفا رکھنا تھا قائم تم سےپھر پشیمانی کی یہ عکسِ فشانی کیوں ہو میں بھی حیران ہوں آیا ہے زمانہ کیساایسی

عہدِ رفتہ سے پریشان یوں جانی کیوں ہو Read More »

روشنی میں چاندنی میں بے سبب جلتا ہوں میں

غزل روشنی میں چاندنی میں بے سبب جلتا ہوں میںیعنی سچ ہے اس ادھوری موت سے ڈرتا ہوں میں تیرگی میں روشنی کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں میںہے محبت فاتحِ عالم یہی سنتا ہوں میں کچھ فصیلِ وقت سے پرواز بھرتے فیصلےاور کچھ لمحہ بہ لمحہ خود سے ہی ڈرتا ہوں میں بیچ پستی سے بلندی

روشنی میں چاندنی میں بے سبب جلتا ہوں میں Read More »

اس خرَد کے ہر اک خراب میں تو

غزل اس خرَد کے ہر اک خراب میں تویعنی کے ہر ہی یار باب میں تو دل بھی کرتا ہے اب مرا نخرےیعنی اس دل کے اضطراب میں تو میں نے پوچھا تھا اک سوال فقطاور الجھا ہے کس جواب میں تو ریت میں جیسے کوئی ذرہ ہوایسے رہتا ہے بہتے آب میں تو اک

اس خرَد کے ہر اک خراب میں تو Read More »

گلشنِ جاں میں خس و خاشاک سے کیا کیا ہوا

گلشنِ جاں میں خس و خاشاک سے کیا کیا ہواپوچھتے کیوں ہو دل صد چاک سے کیا کیا ہوا کس کو فرصت تھی شبِ فرقت میں پوچھے چاند سےوقتِ رخصت دیدہِ نمناک سے کیا کیا ہوا صرف وحشت ہی نہیں تھی موسمِ گل میں مریتم کیا جانو اس گریباں چاک سے کیا کیا ہوا یہ

گلشنِ جاں میں خس و خاشاک سے کیا کیا ہوا Read More »

یوں تو کل ہوں گے فسانہ ہم لوگ

یوں تو کل ہوں گے فسانہ ہم لوگآج لیکن ہیں زمانہ ہم لوگ اڑتے رہتے ہیں پرندوں کی طرحڈھونڈتے کب ہیں ٹھکانہ ہم لوگ جو کھلی رکھتے ہیں آنکھیں اپنیان کو کہتے ہیں دوانہ ہم لوگ ہم جو کر لیتے بھروسہ تم پربن گئے ہوتے نشانہ ہم لوگ مسکرانے کے لیے ڈھونڈتے ہیںمسکرانے کا بہانہ

یوں تو کل ہوں گے فسانہ ہم لوگ Read More »