عداوت اس قدر پھیلی ہوئی ہے
کتاب زیست تک روٹھی ہوئی ہے
ابھی تم دیکھنا پورا تماشا
کہانی تو ابھی آدھی ہوئی ہے
مجھے اب جیت پائے گا نہ کوئی
کہ بازی جان کر ہاری ہوئی ہے
ہجوم غم سے لپٹی شام تھی وہ
جو چشمِ نم سے اب بھیگی ہوئی ہے
عجب ہے آبلہ پائی کا موسم
سحر کی اوس تک جلتی ہوئی ہے
مجھے کیوں لگ رہا ہے جانے ایسا
بہت دن سے خوشی روٹھی ہوئی ہے
بہت سینچا لہو سے اس زمیں کو
مگر پھر بھی زمیں سوکھی ہوئی ہے
ابھی جو دھوپ ہے ہرسمت میرے
وہیں سے شاخ اک ٹوٹی ہوئی ہے
یہ دھڑکن بولتی رہتی ہے دن بھر
کہ اب کچھ سانس بھی الجھی ہوئی ہے
ستارو ! آسماں لے جاؤ اپنا
اندھیری شب ابھی سہمی ہوئی ہے
سبھی چہرے بصارت لے گئی اور
ردا پر اک نظر ٹھہری ہوئی ہے
ردا فاطمہ