MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عداوت اس قدر پھیلی ہوئی ہے

عداوت اس قدر پھیلی ہوئی ہے
کتاب زیست تک روٹھی ہوئی ہے

ابھی تم دیکھنا پورا تماشا
کہانی تو ابھی آدھی ہوئی ہے

مجھے اب جیت پائے گا نہ کوئی
کہ بازی جان کر ہاری ہوئی ہے

ہجوم غم سے لپٹی شام تھی وہ
جو چشمِ نم سے اب بھیگی ہوئی ہے

عجب ہے آبلہ پائی کا موسم
سحر کی اوس تک جلتی ہوئی ہے

مجھے کیوں لگ رہا ہے جانے ایسا
بہت دن سے خوشی روٹھی ہوئی ہے

بہت سینچا لہو سے اس زمیں کو
مگر پھر بھی زمیں سوکھی ہوئی ہے

ابھی جو دھوپ ہے ہرسمت میرے
وہیں سے شاخ اک ٹوٹی ہوئی ہے

یہ دھڑکن بولتی رہتی ہے دن بھر
کہ اب کچھ سانس بھی الجھی ہوئی ہے

ستارو ! آسماں لے جاؤ اپنا
اندھیری شب ابھی سہمی ہوئی ہے

سبھی چہرے بصارت لے گئی اور
ردا پر اک نظر ٹھہری ہوئی ہے

ردا فاطمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم