جس کو افسانے کا عنوان بنا رکھا ہے
وہ ترا خواب ہے آنکھوں میں بسا رکھا ہے
لاکھ سمجھاؤ کوئی بات سمجھتا ہی نہیں
دل نے سینے میں مرے شور مچا رکھا ہے
موت تو موت ہے جب آئی اُسے دیکھیں گے
زندگی تو نے بہت مجھ کو ستا رکھا ہے
سوچتی ہوں تو چھلک جاتیں ہیں آنکھیں میری
جیسے آنکھوں نے سمندر کو چھپا رکھا ہے
اس کے ہی نور سے عالم میں اجالے پھیلے
جو دیا آنکھوں میں مدت سے جلا رکھا ہے ہے
ما سوا تیرے ہمیں اور کوئی بھاتا نہں
تیری یادوں نے سماں ایسا بنا رکھا ہے
اس کی ضو آتی ہے ہر سمت ضیاء بار نظر
دل میں اک دیپ جو الفت کا جلا رکھا ہے
درگزر کرنے کی عادت ہے بہت ہی اچھی
اے صدف شکوے شکایات میں کیا رکھا ہے
بنت اظہار