MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جس کو افسانے کا عنوان بنا رکھا ہے

جس کو افسانے کا عنوان بنا رکھا ہے
وہ ترا خواب ہے آنکھوں میں بسا رکھا ہے

لاکھ سمجھاؤ کوئی بات سمجھتا ہی نہیں
دل نے سینے میں مرے شور مچا رکھا ہے

موت تو موت ہے جب آئی اُسے دیکھیں گے
زندگی تو نے بہت مجھ کو ستا رکھا ہے

سوچتی ہوں تو چھلک جاتیں ہیں آنکھیں میری
جیسے آنکھوں نے سمندر کو چھپا رکھا ہے

اس کے ہی نور سے عالم میں اجالے پھیلے
جو دیا آنکھوں میں مدت سے جلا رکھا ہے ہے

ما سوا تیرے ہمیں اور کوئی بھاتا نہں
تیری یادوں نے سماں ایسا بنا رکھا ہے

اس کی ضو آتی ہے ہر سمت ضیاء بار نظر
دل میں اک دیپ جو الفت کا جلا رکھا ہے

درگزر کرنے کی عادت ہے بہت ہی اچھی
اے صدف شکوے شکایات میں کیا رکھا ہے


بنت اظہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم