MOJ E SUKHAN

کسی پتھر سے ٹکرانا پڑے گا

کسی پتھر سے ٹکرانا پڑے گا
بُتِ کافر کے گھر جانا پڑے گا

پہت مرمر کے ہم جیتے رہے ہیں
تو اب جی جی کے مر جانا پڑے گا

مچل کر رہ گیا ہے دل کسی پر
اب اِس بچے کد بہلانا پڑے گا

گلی اُس کی ہے One way سوچ لینا
اگر پلٹے تو جرمانہ پڑے گا

بہت کرلی میاں آوارہ گردی
ہوئی ہے شام گھر جانا پڑےگا

۔۔رفعت اسلام صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم