مجھ سے ناراض ہو؟ سنو تو سہی
مجھ سے ناراض ہو؟ سنو تو سہی جارہے ہو کہاں، رکو تو سہی مجھ پہ تنقید! بھول جاؤ گے دو قدم ساتھ تم چلو تو سہی دل کی بےچین دھڑکنوں کو کبھی پاس آ کر مرے، سنو تو سہی کیوں نہ دل کو سکوں میسر ہو چھپ کے کچھ نیکیاں کرو تو سہی لذتِ عشق
مجھ سے ناراض ہو؟ سنو تو سہی Read More »