MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مجھ سے ناراض ہو؟ سنو تو سہی

مجھ سے ناراض ہو؟ سنو تو سہی جارہے ہو کہاں، رکو تو سہی مجھ پہ تنقید! بھول جاؤ گے دو قدم ساتھ تم چلو تو سہی دل کی بےچین دھڑکنوں کو کبھی پاس آ کر مرے، سنو تو سہی کیوں نہ دل کو سکوں میسر ہو چھپ کے کچھ نیکیاں کرو تو سہی لذتِ عشق

مجھ سے ناراض ہو؟ سنو تو سہی Read More »

دھندلا دھندلا سا لگتا ہے اک اک چہرا اس کے بعد

دھندلا دھندلا سا لگتا ہے اک اک چہرا اس کے بعد کیسے بتاؤں خواب کا شیشہ ٹوٹ کے بکھرا اس کے بعد گھر کی ساری چیزیں اس کی یاد دلاتی رہتی ہیں قلم،کتابیں،کرسی ٹیبل، کولر پنکھا اس کے بعد اک شب میرے خواب میں آئے تو میں اس سے بولوں گی ہجر میں پھرتی رہتی

دھندلا دھندلا سا لگتا ہے اک اک چہرا اس کے بعد Read More »

صحنِ دل چمکنے کی صورتیں نہیں ملتیں

صحنِ دل چمکنے کی صورتیں نہیں ملتیں چاند چاند قدموں کی آہٹیں نہیں ملتیں دل تو روز کہتا ہے، آسماں کی سیر کروں پر زمین والوں سے مہلتیں نہیں ملتیں زندگی کے دریا میں ہر نفس تلاطم ہے سوچ کے سفینے کو منزلیں نہیں ملتیں شہرِ کم بصیرت میں سنگ بکتے رہتے ہیں فکر وفن

صحنِ دل چمکنے کی صورتیں نہیں ملتیں Read More »

کسی کے واسطے جینا محال تھے ہم بھی

کسی کے واسطے جینا محال تھے ہم بھی کسی کا عشق کسی کا خیال تھے ہم بھی بکھر کے رہ گئے بیوہ کی زندگی کی طرح کسی کے واسطے اہل و عیال تھے ہم بھی ہمیں سمجھنے کی کوشش تو کاش کرتے کبھی جواب کی ہی طرح وہ سوال تھے ہم بھی گلوں کو کھلتے

کسی کے واسطے جینا محال تھے ہم بھی Read More »

خواہشیں ہیں بہت، آرزوئیں بہت

خواہشیں ہیں بہت، آرزوئیں بہت سوچتی ہوں کہ تم بن یہ گھر کیا کروں راہ چلتے ہوئے تھک گئے ہیں قدم ختم ہوتا نہیں ہے سفر کیا کروں کوئی سورج مرے ساتھ چلتا نہیں، کوئی سایہ بھی مجھ سے الجھتا نہیں چاند بھی اب نکلتا نہیں ہے یہاں، سونا سونا ہے دل کا نگر کیا

خواہشیں ہیں بہت، آرزوئیں بہت Read More »

ماں

ماں میں تیرے جیسی ہوں ماں میں تیرے جیسی ہوں درد چھپاتی ہوں سب کا غم کو بانٹتی ہوں سب کےزندگی کے طوفاں سے روز جنگ کرتی ہوں پھر بھی ہنستی رہتی ہوں کتنا صبر کرتی ہوں ماں میں تیرے جیسی ہوں آس میں خوشی کی میں سب غموں کو پی جاٶں سوچتی ہوں اک

ماں Read More »

درد لکھ کر مٹا دیا میں نے

درد لکھ کر مٹا دیا میں نے غم کو اک قہقہ دیا میں نے جس کی خاطر جہاں کو چھوڑا وہ کہہ رہا ہے کہ کیا دیا میں نے جب وہ روٹھا مجھے مناتے ہوئے آخرش مسکرا دیا میں نے کیسے لوٹاؤں میں خطوط اس کے جوتھا سب کچھ جلا دیا میں نے کیا خبرتجھ

درد لکھ کر مٹا دیا میں نے Read More »

مہرباں تم پہ بادل ہوگیا تو

مہرباں تم پہ بادل ہوگیا تو کروگے کیا وہ جل تھل ہو گیا تو کہا اس نے چلو موضوع ہی بدلیں فسانہ جب مکمل ہو گیا تو رلائے نہ کہیں سارے جہاں کو تمہارا غم مسلسل ہوگیا تو کبھی انجام بھی سوچا ہے تم نے یہ دل وحشت میں جنگل ہوگیا تو کبھی ہر گز

مہرباں تم پہ بادل ہوگیا تو Read More »

آپ کی جب عطا ہو گئی

آپ کی جب عطا ہو گئی درد کی انتہا ہوگئی گلشنِ عشق کی آج کل زعفرانی فضا ہوگئی پیڑ پودے جھلسنے لگے دھوپ کی انتہاہوگئی جتنے فرعون و نمرود تھے سب کی ہستی فنا ہو گئی حاکمِ وقت سمجھیں گے کب ظلم کی انتہا ہوگئی کون آیا سرِ انجمن خوشنما کیوں معطر فضاہو گئی اُن

آپ کی جب عطا ہو گئی Read More »

کرچیاں

یہ لمحات ، جو دامنِ زیست سے منسلک ہیں وہی ٹوٹی ٹوٹی سی ہیں کرچیاں سوچ کی ، ایک انجانہ سا خوف ہے دھندھلکے سے یہ ساۓ، ہیں دھندھلی سی یادیں، جو بس چیختی ہیں بدلتی ہیں کروٹ، فنا کیوں نہیں ہوتے یہ سب، یہی اک سوال اب تلک ہے معلَّق، مرے درمیاں ہیں یہ

کرچیاں Read More »