MOJ E SUKHAN

یہ لوگ پھول نہیں رکھتے اب کتابوں میں

یہ لوگ پھول نہیں رکھتے اب کتابوں میں
محبتوں کا سبق ہی نہیں نصابوں میں


گئے تھے صحرا کو دیوانگی کا موسم تھا
سنا ہے اب بھی بھٹکتے ہیں وہ سرابوں میں


شباب سارا جو ڈوبے رہے ہیں مستی میں
بڑھاپا دیکھا تو اب جھانکتے ثوابوں میں


ہر ایک شخص ہے یا شیخ اپنی دیکھ میں گم
یہ لوگ جیتے ہیں کچھ ان کہے عذابوں میں


وہ جن کی سانس بھی چلتی نہ تھی ہمارے بنا
نگاہ نیچی کئے پھرتے ہیں نقابوں میں


جو سنگدل تھے فطرت نہیں بول پائے
وہ لوگ کانٹے چبھوتے ہیں اب گلابوں میں


کل اک بھکاری نے ہنستے ہوئے کہا کاوش
بھکاری آج ہیں ہم تھے کبھی نوابوں میں

کاوش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم