تم پرچم ہو
پوری دنیا کا آدھا سچ ہوں میں حوا ہوں یہ سچ ہے نسلوں کی افزائش میں میرا حصہ ہے یہ بھی سچ ہے مجھ ہی سے جنمے پیر پیمبر پر میری تخلیق کا منبع ذات تمہاری تم آدم ہو, تم تم ہو میری آدھی ذات میں, پورے گم ہو تم آدم ہو اس دنیا کا
پوری دنیا کا آدھا سچ ہوں میں حوا ہوں یہ سچ ہے نسلوں کی افزائش میں میرا حصہ ہے یہ بھی سچ ہے مجھ ہی سے جنمے پیر پیمبر پر میری تخلیق کا منبع ذات تمہاری تم آدم ہو, تم تم ہو میری آدھی ذات میں, پورے گم ہو تم آدم ہو اس دنیا کا
اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے تجھے کیا معلوم زندگی عکس بدلتی ہے تجھے کیا معلوم دن تو سورج ہے کسی طرح سے ڈھل جاتا ہے رات آنکھوں میں ٹھہرتی ہے تجھے کیا معلوم میرے چہرے پے لکھے حرف تو پڑھ لیتا ہے جو مرے دل پے گزرتی ہے تجھے کیا معلوم یہ ترے نام
اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے تجھے کیا معلوم Read More »
رفاقت کو نہ اشکوں سے بھریں ہم چلو تجدیدِ الفت پھر کریں ہم یہ من کرتا ہے کہ تنہائیوں میں تمہیں کو یاد بس کرتے رہیں ہم کئی دن سے یہی من کررہا ہے کہ کچھ کارے جہاں بھی نہ کریں ہم ہمارے سامنے بیٹھے رہو تم تمہارے سامنے بیٹھے رہیں ہم کہاں اب اتنی
رفاقت کو نہ اشکوں سے بھریں ہم Read More »
نور ہی نور میں نہایا ہوا وہ سراپا ہے جگمگایا ہوا جس سےملنے کو سب ترستے ہیں وہ حصارِسخن میں آیا ہوا نغمگی کیوں نہ ہو فضاؤں میں میرا نغمہ ہے گنگنایا ہوا روح میں کِرچیاں غموں کی ہیں شیشہء دل ہے چوٹ کھایا ہوا میں اسی کے ثمر سے ہوں محروم جو ہے میرا
نور ہی نور میں نہایا ہوا Read More »
پھر سے اسی فریب میں آ ئے ھوئے ہیں ہم ایمان جس پہ پہلے بھی لا ئے ھوئے ہیں ہم رنگیں تخیلات میں گزری ہے زندگی کم بخت شاعروں کے ستا ئے ھوئے ہیں ہم جس کی خدا کے ساتھ بھی دو پل نہیں بنی اس بد مزاج شخص کو بھائے ھوئے ہیں ہم امید
پھر سے اسی فریب میں آ ئے ھوئے ہیں ہم Read More »
آواز کس نے دی مجھے شدّت کی پیاس میں دریا انڈیل لائی ہوں سارا گلاس میں میں جانتی ہوں آئے گا اک روز لوٹ کر اپنی گھٹن سے تنگ یا جینے کی آس میں اسکو بتا نہیں سکی دل کی اداسیاں تصویر ایک بھیج دی کالے لباس میں مرهم بھی دے گیا مجھے زخموں کے
آواز کس نے دی مجھے شدّت کی پیاس میں Read More »
جنموں کی داستاں ہے یہ عمروں کا میل ہے کس نے کہا ھے دوستی رنگوں کا کھیل ہے ؟ انساں ترے نصیب کی گندم نہ اگ سکی سونا پہاڑ میں کہیں صحرا میں تیل ہے وہ دکھ بھی دے تو کر نہیں سکتی اسے جدا لپٹی ہوئی بدن سے یہ آکاس بیل ہے نایاب ھے
جنموں کی داستاں ہے یہ عمروں کا میل ہے Read More »
آنکھوں کو اگر دل کا اشارہ نہیں ہوتا تو . سامنے رہ کر بھی ہمارا نہیں ہوتا آنچل کا تقدس بھی تو کرسکتا ہے پامال بڑھتا ہوا ہر ہاتھ سہارا نہیں ہوتا ہر شخص کو پلکوں پہ جگہ دی نہیں جاتی ہر شخص ہمیں جان سے پیارا نہیں ہوتا اب بھی وہ سکوں دل کا
آنکھوں کو اگر دل کا اشارہ نہیں ہوتا Read More »
اک دیا سا کفِ امید پہ دھر جاتے ہو خواب بن کر چلے آتے ہو گزر جاتے ہو تم نے سمجھا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرے دکھ کو تم بھی ہنستی ہوئی تصویر پہ مر جاتے ہو تمہیں اندازہ نہیں آگ کے پھیلاؤ کا روز جنگل کی طرف لے کے شرر جاتے ہو چھاؤں دیتے
اک دیا سا کفِ امید پہ دھر جاتے ہو Read More »
خوف طاری نہیں ہوتا کبھی شہبازوں پر قدغنیں لاکھ لگاؤ مری پروازوں پر اس نے اک بار پکارا نہ پلٹ کر دیکھا ایک مدت میں لپکتی رہی آوازوں پر عمر کٹتی ہے بھٹکتے ہو ئے پردیسوں میں تختیاں نام کی رہ جاتی ہیں دروازوں پر بدگماں وقت سے پہلے ہی میں کیونکر ہوتی لوگ چھوڑے
خوف طاری نہیں ہوتا کبھی شہبازوں پر Read More »