MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خوش گمانی کیسے کرلیں ہم یقیں

خوش گمانی کیسے کرلیں ہم یقیں
مشکلیں بھی ختم ہوتی ہیں کہیں

جب بھی ٹوٹا گفتگو کا سلسلہ
ذہن و دل میں نفرتیں پلنے لگیں

میں وہاں سے اور آگے چل پڑا
ختم ہوتی ہے جہاں حدِ یقیں

ہے سراسر عقل و دانش کا قصور
جہل کیسے ہو گیا مسند نشیں

جس جگہ بکھری ہوئی ہیں کرچیاں
جانے کیوں میں پاؤں رکھتا ہوں وہیں

شاید ان میں کچھ شرافت ہے ابھی
وہ برے جو پارسا بنتے نہیں

تیرے آنگن میں ستارے ضوفشاں
میرے آنگن میں چراغِ بے یقیں

اس سے تم فیاض اس کو مانگ لو
وجد میں ہے خانہِ دل کا مکیں

فیاض علی فیاض

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم